19 اگست 2014 - 09:31
 یورینیم کی افزودگی ایران کا مسلّمہ حق

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایٹمی مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوئے تو یہ کوئی المیہ نہیں ہوگا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر گروپ  پانچ جمع ایک کے ساتھ ایٹمی مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوئے تو یہ کوئی المیہ نہیں ہوگا۔ سید عباس عراقچی نے سنہ دو ہزار تیرہ کو گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ جنیوا سمجھوتے پر منتج ہونے والے گیارہ برسوں پر محیط مذاکراتی عمل کا جائزہ لیتے ہوئے کہاکہ  جنیوا سمجھوتہ چھ ماہ کی ایک جنگ بندی کے مترادف تھا تاکہ فریقین مناسب سیاسی اور بین الاقوامی ماحول میں مذاکرات انجام دے سکیں۔ سید عباس عراقچی نے مزید کہاکہ اس جنگ بندی کی رو سے  یورپ والے پابندیاں جاری نہیں رکھیں گے اور ایران بھی اپنی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کا دائرہ نہیں پھیلائے گا۔ اگرچہ اس نے ان کو بند بھی نہیں کیا ہے۔ سیدعباس عراقچی نے مزید کہاکہ جنیوا سمجھوتہ کوئي عالمی معاہدہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سیاسی دستاویز ہے جس کی رو سے فریقین رضاکارانہ طور پر بعض اقدامات انجام دینے کے پابند ہیں۔  سید عباس عراقچی نے مزید کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران یورینیم کی افزودگي بند کۓ جانے کو ہرگز تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ وہ اسے اپنا مسلّم حق جانتا ہے اور ایران کی طاقت کا راز بھی یہی ہے اور اسی بنیاد پر وہ چھ بڑی طاقتوں کے مقابلے میں ڈٹا ہوا ہے۔

.......

/169