اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی وزارت خارجہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی محاذ پر ناکامی کے بعد دشمنانہ اقتصادی مہم کے تحت متعدد اداروں، افراد اور بحری جہازوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹامی پیگٹ نے مقامی وقت کے مطابق پیر کو ایران کے خلاف امریکی اقتصادی جنگ کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان افراد، اداروں اور بحری جہازوں کی سرگرمیوں میں خطے میں امریکی فوجیوں اور امریکا کے اتحادیوں کے خلاف حملے، غیر قانونی اسلحے کی فراہمی، امریکی بنیادی ڈھانچے میں سائبر دراندازی اور ایسی توانائی مصنوعات کی منتقلی شامل ہے جن کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی دنیا بھر میں دہشت گردی کے لیے مالی وسائل فراہم کرتی ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان پابندیوں کا ہدف ایرانی فوجی حکام ہیں جو امریکی فوجیوں اور خطے میں اس کے شراکت داروں کے خلاف حملوں کے لیے اسلحے کی فراہمی اور حملوں کی ہدایت کے ذمہ دار ہیں۔
پیگٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ ان پابندیوں میں ایران میں قائم ان اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جو امریکی فوجیوں اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کے لیے معلومات جمع کرتے رہے ہیں، جبکہ ایران کے فوجی اور میزائل پروگراموں کے لیے سازوسامان فراہم کرنے والے ایک نیٹ ورک کو بھی پابندیوں کا ہدف بنایا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے کمپنیوں، بحری جہاز رانی کے شعبے سے وابستہ افراد اور ان ثالثوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے جو متحدہ عرب امارات، چین، سنگاپور اور یورپ کے راستے ایرانی تیل، پٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات منتقل کرتے ہیں تاکہ ایران کو درکار مالی وسائل فراہم کیے جاسکیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آج کی پابندیوں کا سائبر شعبہ امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ساتھ قریبی رابطے میں آگے بڑھایا گیا۔ ایف بی آئی نے گزشتہ ہفتے آٹھ ایرانی شہریوں کے خلاف فردِ جرم عائد کی تھی جن پر ایک ایسے ہیکنگ نیٹ ورک سے تعلق کا الزام ہے جس نے امریکی توانائی کمپنیوں، دفاعی ٹھیکیداروں، طبی اداروں اور مقامی، ریاستی اور وفاقی سطح کے سرکاری دفاتر کو نشانہ بنایا تھا۔
پیگٹ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ہفتے امریکی وزارت خارجہ کے ’’ریوارڈز فار جسٹس‘‘ پروگرام نے ان افراد میں سے پانچ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر مجموعی طور پر 10 ملین ڈالر تک انعام مقرر کیا تھا، جن کے بارے میں الزام ہے کہ وہ ایرانی حکومت کی جانب سے امریکا کے اہم بنیادی ڈھانچے کے خلاف سائبر سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
امریکی وزارت خارجہ کے اس عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام امریکا کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو درپیش خطرات کے حوالے سے واشنگٹن کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے اور امریکی نظاموں پر حملہ کرنے والے افراد، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود ہوں، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں جواب دہ بنایا جائے گا۔
پیگٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کی فوجی اور مبینہ جوہری پھیلاؤ سے متعلق سرگرمیوں، سازوسامان کی فراہمی کے منصوبوں، نقصان دہ سائبر کارروائیوں اور ایران کی غیر قانونی تیل تجارت کو روکنے، بے نقاب کرنے اور ختم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا، جس کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ اس سے ایرانی حکومت کی مبینہ نقصان دہ سرگرمیوں کو مالی مدد ملتی ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ امریکا عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان عناصر کو جواب دہ بنانے کے لیے اس کے ساتھ تعاون کرے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی وزارت خزانہ کا دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) دنیا بھر میں 60 سے زائد اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے، جن پر ایران کو جوہری اور میزائل ٹیکنالوجی، سائبر کارروائیوں اور تیل سے آمدنی حاصل کرنے میں مدد دینے کا الزام ہے۔
اسی دوران امریکی وزارت خارجہ کے ’’ریوارڈز فار جسٹس‘‘ پروگرام نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے پانچ اعلیٰ کمانڈروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 10 ملین ڈالر تک انعام مقرر کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی وزیر خزانہ اور اقتصادی جنگ کے ذمہ دار اسکاٹ بیسنٹ نے 24 اگست 2026 کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر امریکا نے ایران کے خلاف ’’اقتصادی اخراج‘‘ کی کارروائی شروع کردی ہے۔ انہوں نے اسے ایک بے مثال مہم قرار دیا جو ایران اور اسے فعال بنانے اور اس کی حمایت کرنے والے عناصر کو نشانہ بنائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 19 اگست 2026 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ ایران کے خلاف جارحیت کے نتائج کے باعث انہیں امریکی عوام اور کانگریس کی جانب سے وسط مدتی انتخابات سے قبل شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی لیے وہ آج کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کی ’’سب سے تباہ کن اقتصادی کارروائی‘‘ کا اعلان کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بے مثال پیمانے پر اقتصادی جنگ اور ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کی مہم ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی 20 اگست 2026 کو امریکی قومی قرضے کے 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرنے کے حوالے سے دو تصاویر شیئر کرتے ہوئے ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف اعلان کردہ مبینہ ’’اقتصادی یومِ قیامت‘‘ کو امریکا کے اقتصادی بحران اور بڑھتے ہوئے قرض سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن کی ناکام پالیسیوں کا تسلسل ایرانی عوام میں مزید ناکامی اور دشمنی میں اضافے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں دے گا۔
آپ کا تبصرہ