اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک میں نیٹو کے سینئر کمانڈر فلپ بريڈلاو نے کہا ہے کہ تشدد پر آمادہ انتہا پسند تنظیم داعش کے مغربی ممالک میں بڑھتے اثرات سے ہم فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مئی کے آخر میں برسلز میں یہودیوں کے میوزیم پر دہشت گردانہ حملے ان لوگوں نے کیا تھے جو شام کی جنگ سے واپس آئے تھے۔ نیٹو کے اس کمانڈر کا کہنا ہے کہ ان دہشت گردوں کے اپنے ممالک کی جانب واپسی کے بارے میں ہمیں بہت ہوشیار رہنا چاہئے۔
برطانیہ فکر مند
برطانوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اگر داعش کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو یہ دہشت گرد برطانیہ کی سڑکوں پر بھی لوگوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ کیمرون نے کہا کہ داعش کے خلاف کارروائی صرف انسانی بنیاد پر کافی نہیں ہوگی بلکہ اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف سخت سیکورٹی اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم کے مطابق اگر ہم اس انتہائی خطرناک دہشت گرد گروہ کے بڑھتے قدموں کو روکنے کے لئے کارروائی نہیں کرتے ہیں تو یہ مزید مضبوط ہوگا یہاں تک کہ یہ شدت پسند تنظیم برطانیہ کی سڑکوں پر ہم لوگوں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ داعش کا پرچم لئے اگر کوئی بھی شخص دیکھا گیا تو اسے فورا گرفتار کیا جانا چاہئے. قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے برطانیہ کے وزیر اعظم کیمرون کہہ چکے ہیں کہ داعش برطانیہ کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق داعش جنگجوؤں میں تقریبا 400 جنگجو برطانوی ہیں۔
داعش نے پاسپورٹ جاری کیا
شام اور عراق کے کچھ حصوں پر کنٹرول کر لینے والے دہشت گرد گروہ داعش نے اپنا پاسپورٹ جاری کیا ہے۔
داعش کو کسی بھی ملک نے منظوری نہیں دی ہے بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی بھی لگائی گئی ہے لہذا اس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے پاسپورٹ سفر کے لئے استعمال نہیں کئے جا سکتے لیکن اس کے باوجود اس تنظیم نے دنیا بھر میں نوجوانوں کی توجہ کو مرکوز کرنے اور اپنے کنٹرول والے علاقوں میں بلانے کے لئے پاسپورٹ جاری کر دیئے ہیں۔
برطانوی اخبار ڈیلي میل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ داعش نے اب تک 11 ہزار سے زیادہ لوگوں کو پاسپورٹ جاری کیا ہے اور انہیں اپنی شہریت بھی دی ہے۔ دہشت گرد تنظیم کی جانب سے جاری کئے گئے پاسپورٹ پر اس کا پرچم چھپا ہے اور دہشت گرد تنظیم کا نام لکھا ہوا ہے۔ پاسپورٹ پر یہ جملہ بھی لکھا ہوا ہے کہ یہ پاسپورٹ رکھنے والے کو اگر کو نقصان پہنچا تو ہم فوجوں کو حرکت میں لائیں گے۔
کچھ مبصر یہ کہتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیم نے نفسیاتی جنگ کے تحت یہ قدم اٹھایا ہے۔
اس سے پہلے لندن میں داعش کے حامیوں نے جگہ جگہ پمفلیٹ تقسیم کئے تھے جس پر لوگوں کو اس دہشت گرد تنظیم کے کنٹرول والے علاقوں کی جانب نقل مکانی کرنے کی دعوت کی گئی تھی۔


.......
/169