اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ليبيا کي پارليمنٹ کي جانب سے ملک ميں امن و امان کي برقراري کي خاطر عالمي برادري سے مداخلت کي درخواست کے بعد ليبيا کے مختلف شہروں ميں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہيں۔
اطلاعات کے مطابق عالمي برادري سے مداخلت پر مبني پارليمنٹ کي درخواست کي مخالفت ميں، طرابلس، بن غازي ، مصراتہ، اور نالوت سميت کئي اہم شہروں ميں ہونے والے مظاہروں ميں ہزاروں افراد نے، ملک ميں امن امان کي صورتحال کي بہتري کي خاطر بين الاقوامي مداخلت پر مبني درخواست کي شديد الفاظ ميں مزمت کي اور پارليمنٹ کي درخواست کو، سترہ فروري کے انقلاب کے خلاف بغاوت قرار ديا۔
مظاہرين نے اس موقع پر زميني فوج کے سابق سربراہ ، ريٹائرڈ جنرل خليفہ حفتر کے خلاف بھي شديد نعرے لگائے۔ جنرل خليفہ حفتر نے " کرامت " سے موسوم فوجي کاروائيوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے کہ جس کے نتيجے ميں ليبيا کا بحران مزيد پيچيدہ ہوگيا ہے۔
دوسري جانب پارليمنٹ کي جانب سے بين الاقوامي برادري سے تعاون اور مداخلت کي اپيل کي حمايت ميں بھي طرابلس اور بن غازي ميں مظاہروں کي اطلاعات موصول ہوئي ہيں ۔
.......
/169