اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے شمالي شہروں ميں سرگرم بدنام زمانہ دہشت گرد گروہ داعش کي جانب سے ايزدي فرقے اور عيسائيوں کے خلاف ايذا رساني کي کاروائيوں ميں شدت آنے اور مغربي ملکوں کے پالے ہوئے اس گروہ کے ہاتھوں امريکي مفادات کے خطرے ميں پڑتا ديکھ کر نام نہاد عالمي برادري بھي اس گروہ کے خلاف حرکت ميں آگئي ہے-
يورپي يونين اپنے ايک بيان ميں ، عراق ميں سرگرم داعش سميت تمام مسلح گروہوں کے دہشت گردانہ حملوں کي مزمت کي ہے-
بيان ميں کہا گيا ہے کہ ہميں انساني حقوق کي صورتحال اور خصوصا مذہبي اقليتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے اپنا گھر بار چھوڑنے پرسخت تشويش ہے-
يورپي يونين کے بيان ميں اس بات پر خاص تاکيد کي گئي ہے کہ ان ميں سے بعض اقدامات غير انساني اور جنگي جرائم کے زمرے ميں آتے ہيں کہ جن کي تحقيقات کئےجانے کي ضرورت ہے-
برطانيہ کے بعض اعلي حکام نے بھي ايک ہنگامي ميٹنگ ميں عراق کي صورتحال کا جائزہ لينے کے بعد شمالي عراق کے تيل سے مالا مال علاقے کے پناہ گزينوں کے لئے فوري امداد پہنچانے اور بغداد ميں ايک وسيع البنياد حکومت کي تشکيل پر زور ديا ہے- برطانيہ کا کہنا ہے کہ عراقي حکومت ايک وسيع البنياد حکومت کي تشکيل کي صورت ميں داعش کا مقابلہ کرسکتي ہے-
برطانيہ کے وزير اعظم کے ترجمان نے شمالي عراق اور جنوبي اربيل ميں کردوں کے ساتھ داعش کے مسلح دہشت گردوں کے ساتھ ہونے والي لڑائيوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے اپن ايک بيان ميں کہا کہ ان علاقوں ميں انساني حقوق کي صورتحال بہت بحراني اور تشويشناک ہے کہ جس کے پيش نظر ان کي فوري امداد کي جاني چاہيے ہے-
جنوبي ايشيا کے رکن ملکوں کي تنظيم آسيان نے بھي اپنے ايک بيان ميں داعش کے اقدامات کو غير انساني قرار ديتے ہوئے شديد الفاظ ميں ان کي مذمت کي ہے-
اسي طرح کا ايک بيان اقوام متحدہ کي ذيلي تنظيم يونسکو نے بھي جاري کيا ہے-
ادھر آسٹريا ميں مقيم اس ملک کے عرب نژاد باشندوں نے عراق اور شام ميں جاري واقعات کو نسلي تصفيے اور عرب ممالک ميں جاري آبادي کے ڈھانچے ميں تبديلي سے تعبير کيا ہے - آسٹريا کے دارالحکومت ويانا ميں اتوار کے روز ہونے والے ايک مظاہرے ميں شريک عرب نژاد باشندوں کا کہنا تھا عراق اور شام ميں مختلف مذاہب کے لوگ مل جل کر رہ رہے ہيں - مظاہرے کے شرکا ايسےبينر اور پلے کارڈ بھي اپنے ہاتھوں ميں اٹھائے ہوئے تھے کہ جن ميں داعش کے اقدامات کي مذمت ميں نعرے درج تھے-
ادھر بعض مصدقہ رپورٹوں سے اس بات کي تصديق ہوگئ ہے کہ عراق ميں سرگرم داعشي عناصر عراق کي سابق حکمراں جماعت بعث پارٹي سے تعلق رکھتے ہيں -
النخيل نيوز ايجنسي نے بھي اپني ايک رپورٹ ميں اس بات کا انکشاف کيا ہے کہ عراق کے شمالي شہروں پر قابض داعش کے سرکردہ افراد کے ناموں کي جو فہرست سامنے آئي ہے ان ميں زيادہ تر افراد کا تعلق کالعدم بعث پارٹي سے ہے، انہي ميں سے ايک نام وليد جاسم العواني کا ہے جو عراقي ڈکٹير صدام کے زمانے ميں فوج کا ايک اعلي افسر تھا اور اس وقت داعش کي فوجي کونسل کا سربراہ بنا ہوا ہے-
اسي طرح محمد الندي الجبوري جو صدام کے زمانے ميں بعث پارٹي کي ہائي کمان کا رکن تھا، اس وقت داعش گروہ کي فوجي کونسل کي ايک ذيلي کميٹي کا انچارج ہے -
اس رپورٹ کے مطابق ابو فيصل الزيدي جسے بدنام زمانہ داعش گروہ کے سرغنہ ابوبکر البغدادي کا قريبي ترين فرد سمجھا جاتا ہے،صدام کے زمانے ميں عراقي انٹليجنس ادارے کا ايک افسر تھا-
ابوعلي الخليلي نامي داعش گروہ کے ايک اور سرکردہ ليڈر کے بارے ميں بتايا جاتا ہے کہ وہ ماضي ميں صدام کے فدائين ميں شامل تھا-
حجي البکر سے معروف " سمير الخليفائي جو ابو بکر البغداي کا نائب شمار ہوتا تھا صدام کے زمانے عراقي فضائيہ کا پائلٹ تھا تاہم رواں سال کے آغاز ميں ايک جھڑپ ميں ماراگيا-
اسي طرح ابو مہند السويداوي اور عدنان اسماعيل نجم نامي دو افراد جو داعش گروہ کي فوجي کونسل کے رکن شمار ہوتے ہيں، ماضي ميں صدامي فوج ميں باضابطہ طور پر خدمات انجام دے چکے ہيں-
.......
/169