10 اگست 2014 - 15:18
مغربی ممالک کو روس کی دھمکی

روس نے مشرقی یوکرین میں پیدا ہوئے شدید انسانی بحران پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

 اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر کے پریس سیکریٹری دیمتری پیسكوف نے بتایا کہ روس دو طرفہ اور کثیر الجہتی سطح پر مشرقی یوکرین میں مدد فراہم کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری ترجیح ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر کی ایف کے حکام کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ روسی فوجیوں نے یوکرین کے داخلی امور میں مداخلت کی ہے اور مشرقی یوکرین میں دراندازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی فوجیوں نے اس طرح کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔
پیسکوف نے کچھ ممالک کے خلاف روس کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے جوابی قدم ہیں۔ ماسکو نے پابندی لگانے کی پہل نہیں کی تھی۔ یہ مجبوری میں اٹھایا گیا قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اس طرح کے قدم نہیں اٹھانا چاہتا لیکن کیا کریں، ہمیں بھی جوابی کاروائی کا پورا حق ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر مغربی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مغربی ملک روس پرنئی پابندی عائد کریں گے تو روس بھی ان کا جواب دے گا۔
واضح رہے کہ روس نے امریکا اور یورپی یونین سمیت کئی ملکوں سے کھانے پینے کی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔
پابندی کے نتیجے میں روس امریکا، یورپی یونین، آسٹریلیا، کینیڈا اور ناروے سے کھانے پینے کی اشیا درآمد نہیں کرے گا ۔ اس پابندی میں گوشت، مچھلی، دودھ، ترکاریوں اور پھلوں کی درآمد پر روک لگائی گئی ہے
یورپی کمیشن کے مطابق روس میں استعمال کئے جانے والے تیس فی صد پھل اور بیس فی صد ترکاریاں یورپی یونین سے درآمد کی جاتی ہیں۔ روس ہر سال جو زرعی اشیاء اور اشیائے خوردنی درآمد کرتا ہے ان کی مالیت ایک ارب ڈالر ہے۔ اس طرح کی صرف دو فیصد اشیاء امریکا سے درآمد کی جاتی ہیں۔

.......

/169