9 اگست 2014 - 14:33
کویت پر داعش کیوں قبضہ کرنا چاہتا ہے؟

دہشت گرد تنظیم داعش کے سربراہ ابوبكر البغدادی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے لئے وہ کویت پر قبضہ کرے گا۔

 اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ابوبكر بغدادی جس نے خود کو پوری دنیا کے مسلمانوں کا خلیفہ قرار دے رکھا ہے، اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ہمیں امریکہ سے کچھ حساب کتاب برابر کرنا باقی ہے۔ ابوبكر بغدادی نے کہا ہے کہ ہمارے ہاتھ تو امریکہ تک نہیں پہنچ سکتے اس لئے امریکہ ہی ہمارے پاس آئے گا۔

بغدادی نے کہا ہے کہ یہ کام کویت پر قبضہ کرکے کیا جا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کے بعد امریکہ وہاں آئے گا اور پھر ہم وہاں پر امریکہ سے حساب کتاب چکتا کریں گے اور اس سے انتقام لیں گے۔ اس دوران کویت کے سیکورٹی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے ان لوگوں پر نظر رکھ رہے ہیں جو ٹوئٹر پر داعش کی حمایت کرتے ہیں اور لوگوں کو کویت کی داخلی سیکورٹی کو نقصان پہنچانے کے لئے ورغلاتے ہیں۔
ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کے بارے میں اطلاعات اور ثبوت جمع کرنے کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابوبكر بغدادی کی جانب سے امریکہ کے ساتھ نام نہاد جنگ کا یہ دعوی ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ جب اس بات کی رپورٹیں سامنے آ چکی ہیں کہ بغدادی کی تربیت میں امریکہ اور صیہونی حکومت کا ہاتھ ہے۔
امریکہ کے ہاتھوں عراق کے غاصبانہ قبضے کے دوران ابوبكر بغدادی کو امریکی فوجیوں نے قیدی بنایا تھا اور امریکی فوجیوں کے عراق سے چلے جانے کے بعد ابوبكر بغدادی کے ساتھ ہی القاعدہ کے کچھ دہشت گردوں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔
ادھر عراق کی ریڈ كراس کمیٹی نے داعش کے دہشت گردوں کے ہاتھوں عراق کی عیسائی اور ایزدی کمیونٹی کی خواتین کے اغوا کی اطلاع دی ہے۔ اس ادارہ کے ترجمان محمد الخزائی نے کہا ہے کہ داعش کے دہشت گرد ان خواتین کا اغوا، ان کو فروخت کرنے کے مقصد سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دہشت گردوں نے تلعفر ہوائی اڈے پر بہت سی عیسائی، ایزدی اور تركمن خواتین کو قیدی بنا رکھا ہے۔

داعش کے دہشت گردوں نے ان عورتوں کا اغوا کرنے کے بعد ان کے مردوں کو قتل کر دیا۔ عراق کی ریڈ كراس کمیٹی کے ترجمان محمد الخزائی نے عراق کی حکومت اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ داعش کے کنٹرول والے علاقوں میں قابل رحم انسانی صورتحال کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کرے۔
.......

/169