2 اگست 2014 - 10:08
ہندوستان نے امریکا کے سامنے جاسوسی کا مسئلہ اٹھایا

ہندوستان نے جمعرات کو امریکا سے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ہندوستانی رہنماؤں اور دوسرے لوگوں کی جاسوسی ناقابل قبول ہے۔ اس پر امریکہ نے کہا کہ کسی بھی اختلافات کا حل دونوں ممالک کی انٹیلیجنس سروس کے ذریعے مل كر کیا جا سکتا ہے۔

ابنا: امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج کے درمیان جمعرات کو دہلی میں طولانی نشست کے بعد یہ بات سامنے  آئی۔ دونوں فریق نے تجارت، دفاع اور توانائی جیسے اہم مسائل پر وسیع گفتگو کی۔ مودی حکومت کے بننے کے بعد پہلی بار کوئی امریکی وزیر خارجہ ہندوستان کے دورے پر ہے۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں جب ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے 2010 میں امریکا کی قومی سلامتی ایجنسی (این ایس اے) کی جانب سے بی جے پی کے رہنماؤں کی جاسوسی کے مسئلہ کو اٹھایا، اس کا انکشاف حال ہی میں این ایس اے کے سابق جاسوس ایڈورڈ اسنوڈین نے کیا تھا۔

سشما سوراج نے جواب دیا کہ میں نے وزیر خارجہ کیری کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا۔ میں نے انہیں بتایا کہ جب یہ خبر ہندوستانی اخبارات میں آئی، تو ہندوستان نے اس پر اعتراض کیا اور اپنا غصہ ظاہر کیا۔  میں اسی غصے سے آپ کو آگاہ کر رہی ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کو دوست مانتے ہیں اور کسی بھی نظریہ سے ہمیں یہ قبول نہیں ہو گا کہ ایک دوست ملک دوسرے دوست ملک کی جاسوسی کرے۔

کیری نے امریکی خفیہ سروس کی جانب سے کی گئی جاسوسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات، اپنے دو طرفہ تعلقات کو اہميت دیتے ہیں، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دونوں ممالک کو دوسرے کے مشترکہ خطرات کے متعلق معلومات کے لین دین کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ عام طور پر اگر کوئی اختلاف یا سوال کھڑا ہوتا ہے تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہماری خفیہ سروس اس کے حل کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام مقامات پر ہندوستان کے ساتھ مشترکہ سرگرمیاں جاری رکھیں گے جہاں ہمارے مشترکہ مفادات کو خطرہ لاحق ہوگا اور ہم وزیر خارجہ کے جذبات کا احترام کرتے ہیں اور اسے سمجھتے ہیں۔ کیری نے کہا کہ امریکا کی پالیسی ہے کہ وہ انٹیلی جنس امور پر عمومی بحث نہیں کرتا۔

ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے سینیٹ کے سامنے زیر سماعت اس امیگریشن بل کا بھی مسئلہ اٹھایا جس سے امریکا میں ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کا جانا محدود ہو جائے گا۔

ہندوستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا - ہندوستان کے تعلقات نے نئی بلندیاں طے کی ہیں لیکن اس کے باوجود امریکی وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ عالمی تجارتی تنظیم ڈبليو ٹي او میں تجارت کو آسان بنانے کے موضوع پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ تجارت کو آسان کرنے کے معاہدے پر دستخط کے لئے ہندوستان کو دیا گیا مقررہ وقت ایسے میں ختم ہو گیا جب جنیوا میں اس موضوع پر بات چیت جاری تھی۔

........

/169