ابنا: داعش نے شام اور عراق میں تو ظلم اور بربریت کی بد ترین مثال قائم کی ہے مگر حیرت ہے کہ مسلمانوں کی اس طاقتور تنظیم نے اب تک فلسطین میں ہونے والے مظالم کے خلاف ذرہ برابر آواز نہیں اُٹھائی۔
آپ ایسے خلیفہ تل مسلمین کے بارے میں کیا کہیں گے جس کے سر ہزاروں معصوموں اور بے گناہوں کا قتل ہو؟اور ایسا خلیفہ جس کے دل میں اولیا ء اللہ اور اصحاب رسول تو کیا انبیا علیہ السلام کا بھی احترام نہ ہو؟ جو مسلمان تمام انبیاء پر ایمان نہ رکھے وہ مسلمان نہیں کہلایا جا سکتا اور یہاں اُن کے مزارات کو بم دھماکوں سے اُڑانے والے خود کو خلیفہ کہہ رہے ہیں۔
خبروں کے مطابق شام اور عراق میں قابض داعش نے حضرت یونس علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام کے مزارات سمیت اب تک پینتالیس مزارات کو تباہ کر دیا ہے، جن میں مساجد اور امام بارگاہوں سمیت اصحاب رسول اور اولیا ء اللہ کے مزارات بھی شامل ہیں۔ داعش جو خود کو ’’سنی جماعت‘‘ کہلواتی تھی اب اس کے ان اقدامات نے اُس کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے۔ کون ایسا مسلمان یا سنی ہے جو انبیا کرام علیہ السلام اور اصحاب رسول کے مزارات کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے۔اور اسی دہشت گرد تنظیم نے اب تک 12 سے زائد سنی علماء کوبھی شہید کر دیا ہے جنہوں نے ان کے اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی۔اس تنظیم کے ان اقدامات نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ان کا اصل مقصد فتنہ اور فساد کے سوا کچھ نہیں۔
.......
/169