ابنا: اطلاعات کے مطابق فلسطين کي خود مختار انتظاميہ کے صدر محمود عباس نے مصر کے مجوزہ منصوبے ميں اپنے پيش نظر شرائط شامل کرنے کے بعد اسے امريکي وساطت سے صيہوني حکومت کو ارسال کرديا ہے۔ پي ايل او کے ايک عہديدار واصل ابو يوسف نے جمعرات کے روز اپنے ايک انٹريو ميں بتايا ہے کہ مصري منصوبے کو ايک جامع شکل ميں جس ميں پانچ بنيادي اور لازم الاجرا نکات شامل ہيں، امريکي وزير خارجہ جان کيري کے ذريعے صيہوني حکومت کو ارسال کرديا گيا ہے۔
ابو يوسف کے مطابق پانچ روزہ جنگ بندي، اور اس کے بعد غزہ کا محاصرہ مکمل طور پر ختم کرنا اور رفح پاس کا کھولا جانا ہمارے پيش نظر ہے کہ جسے مصر کے جنگ بندي کے مجوزہ منصوبے ميں شامل کيا گيا ہے۔ واصل ابو يوسف کا کہنا تھا کہ فلسطيني ماہيگروں کے لئے غزہ کے ساحل سے بارہ ميل کے علاقے کي منظوري، غزہ ميں صيہوني حکومت کے قائم کردہ نو انٹري زون کي منسوخي اور ان تمام فلسطيني قيديوں کي آزادي کہ جنہيں ، اسرائيلي فوجي" گيلعاد شاليت " کي رہائي کے بدلے آزاد کردينے کے بعد دوبارہ گرفتار کرليا گيا تھا مصر کے مجوزہ جنگ بندي کے منصوبے شامل کے گئے اہم نکات ہيں۔
دريں اثنا جنگ بندي کے اس منصوبے ميں ان قيديوں کي رہائي کا موضوع بھي شامل کيا گيا ہے کہ جنہيں سن انيس سو ترانوے کے معاہدے کے تحت اسرائيلي جيلوں سے آزاد کيا جانا تھا ، تاہم صيہوني حکومت نے معاہدے کي خلاف ورزي کرتے ہوئے انہيں رہا کرنے سے انکار کرديا ہے۔
.......
/169