20 جولائی 2014 - 15:37
غزہ میں جنگ اور علاقائی و بین الاقوامی اقدامات

غزہ کے حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اور صہیونی حکومت کے زمینی حملے شروع ہونے اور ساتھ ہی ان حملوں کے خلاف مزاحمتی اہلکاروں کے رد عمل سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے پر ایک خاص فضا حکمفرما ہوگئی ہے ۔

ابنا: مصرنے مقبوضہ علاقوں میں جنگ کی صورتحال سے باہر نکلنے اور غزہ میں بحران میں کمی لانےکے لئے جنگ بندی کا منصوبہ پیش کیا ہے ۔ ایسا منصوبہ جو حماس کو قبول نہیں ہے۔ اس درمیان امریکہ اور صہیونی حکومت کی بھی کوشش ہے کہ، مصر کے جنگ بندی کے منصوبے کے بجائے، ایک نئی ثالثی کی مرکزیت سے جنگ بندی کا نیامنصوبہ مزاحمتی اہلکاروں کو پیش کریں۔ ان اقدامات کے ساتھ ہی یورپ کے بعض حکام نے بھی کوششیں شروع کردی ہیں اور وہ غزہ میں پیش آنے والی جنگ میں اپنا رول ادا کرنا چاہتے ہيں۔ فرانس کے وزیر خارجہ لوران فابیوس نے قاہرہ میں مصری حکام اور امان میں اردن کے حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوسے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ حماس اور صہیونی حکومت کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ یہ اظہار خیال ایسے میں کیا جارہا ہے کہ غزہ کی صورتحال کے بارے میں سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس کے بعد اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے ترجیح دی ہے کہ خود ہی اس علاقے کی صورتحال کا قریب سے جائزہ لیں۔ بان کی مون، آج اتوار کو قطر کے دارالحکومت دوحہ کے بعد مشرق وسطی کے اپنے دورے کا آغاز کریں گے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل قطر کے بعد کویت ، قاہرہ ، بیت المقدس ، رام اللہ اور امان جائيں گے۔ بان کی مون، علاقے کا یہ دورہ، شاید اس لئے کررہے ہیں تاکہ عرب ملکوں کے توسط سے غزہ کی جنگ کے فریقوں کو جنگ بندی پر مجبور کرسکیں۔ کہا جارہا ہے کہ آج اتوار بیس جولائی کو دوحہ میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون شرکت سے ایک اجلاس منعقد ہورہا ہے جس کی سربراہی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کررہے ہیں۔ بظاہر حماس نے جنگ بندی کے قیام اور اسے قبول کرنے کے سلسلے میں کچھ شرائط پیش کی ہیں کہ جن کو، قطر نے بھی عالمی برادری کو پیش کیاہے اور آج قطر کے اجلاس میں بھی ان ہی شرطوں اور درخواستوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ غزہ کے محاصرے کا خاتمہ، ایک ایسا مسئلہ ہے جسے حماس کی جانب سے پیش کیا گيا ہے۔بعض سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ فلسطینوں کے خلاف صہیونی حکومت کی نئی جنگ کے سبب عرب ممالک، اس مسئلے ميں رول ادا کرنے کے لئے رقابت کررہے ہیں چنانچہ مصر اور قطر کے درمیان اس مسئلے ميں زبردست رقابت جاری ہے اور امریکہ بھی چاہتا ہے کہ مصر کے مقابلے میں قطر، غزہ کے خلاف اسرائیل کی نئی جنگ میں مرکزی کردار ادا کرے۔ خبروں کے مطابق غزہ کے عوام اس وقت سخت ترین حالات سے دوچار ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقوام متحدہ نے اب تک، غزہ کی جنگ میں ملوث فریقوں سے صرف جنگ بندی کی اپیل ہے اور اقوام متحدہ کے اسی محتاط موقف نےعملی طور پر صہیونی حکومت کے حملے جاری رہنے کے لئے حالات فراہم کردیئے ہيں امریکی صدر اوباما نے بھی ایک واضح موقف اپناتے ہوئے اسرائیل کو نام نہاد دفاع کاحق دیا ہے اور یہ سب کچھ ایسے حالات میں ہورہا ہے کہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر کے بقول صہیونی حکومت نے غزہ کی نئی جنگ میں ایک بارپھر سفید فاسفورس اور ممنوعہ ہتھیاروں سے استفادہ کیاہے ۔ بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ ملت فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان کی مدد وحمایت کے مقصد سے علاقے کا دورہ کررہے ہیں ۔ لیکن تجربے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جو بھی موقف بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اپنایا جاتا ہے وہ صہیونی حکومت کو اس کے اقدامات سے باز رکھنے کے بجائے مزاحمت پر مزید دباؤ بڑھانے کے مقصد سے ہوتا ہے۔ کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو غزہ کے عوام، سات برسوں سے اسرائیل کے محاصرے میں نہ ہوتے اور اس وقت بھی وہ اپنے بچوں اور عورتوں کے قتل عام اور گھروں کی تباہی کا نظارہ نہیں کرتے۔ اس وقت غزہ کے فلسطینی شدید رنج و الم کے متحمل ہورہے ہیں ایسے میں اقوام متحدہ کی ذمہ داری بہت سنگین ہوجاتی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا؟ بان کی مون اپنے دورے ميں غزہ کے عوام کے درد و رنج میں کچھ کمی لا سکیں گے یا ماضی کی طرح عالمی طاقتوں کے دباؤ ميں آکر ان کے اسیر ہوجائیں گے؟ ۔

.....

/169