17 جولائی 2014 - 15:02
کابل ائیرپورٹ پر طالبان کا حملہ+ تصویر

کابل بین الاقوامی ہوائی اڈے پر طالبان نے حملہ کیا ہے۔

ابنا: افغانستان کے وزیر داخلہ کے معاون ایوب سولنگي نے بتایا کہ طالبان نے یہ حملہ جمعرات کی صبح چار بجے کیا اور رپورٹ ملنے تک جھڑپ جاری تھی۔

انہوں نے کہا کہ مسلح حملہ آور کابل بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ایک کیلومیٹر دور ایک عمارت میں داخل ہوئے اور وہاں سے ہوائی اڈے پر فائرنگ کر رہے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ جاری تھی اور حملہ آور کابل ہوائی اڈے پر راکٹ سے حملے کر رہے ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے ائیرپورٹ کی جانب مزید فوجی دستے روانہ کئے جانے کی اطلاع دی ہے۔
کابل کے ہوائی اڈے پر اترنے والی پروازیں دوسرے شہروں کی جانب روانہ کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب طالبان نے کابل ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔


کابل ایئر پورٹ پر حملہ، طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاھد نے کہا ہے کہ طالبان نے آج صبح کابل ایرپورٹ کے فوجی حصے پر خود کش حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کے بعد طالبان اور فوج میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ طالبان نے دعوی کیا ہےکہ اس حملے میں فوج کو نقصان پہنچا ہے تاہم صحیح تعداد کا پتہ نہيں چل سکا ہے۔ دریں اثنا افغانستان کے نائب وزیر داخلہ ایوب سالنگي نے کہا کہ طالبان نے کابل ایر پورٹ سے ایک کلومیٹر دوری پر واقع ایک عمارت پر قبضہ کرکے ایرپورٹ پر حملہ کیا ہے۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ کابل ایرپورٹ کی طرف فوجی امداد بھیج دی گئي ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق طالبان دہشتگردوں نے ہلکے اور نیم بھاری ہتھیاروں سے ایر پورٹ پرحملے کئے۔افغاں پولیس نے طالبان کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ جھڑپوں میں کسی طرح کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ طالبان دہشتگرد فوجی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ہینگروں پر حملے کرنے کی کوشش میں تھے لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔ طالبان کے اس دہشتگردانہ حملے سے کابل ایرپورٹ سے پروازوں میں تاخیر تو ہوئي لیکن طالبان حملہ آوروں کی ہلاکت کے بعد ایرپورٹ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کردی گئیں۔
طالبان دہشتگردوں نے آج افغان صدر حامد کرزئي کے کارواں پرحملہ کیا ہے۔ ریڈیو تہران کی پشتو سروس کے مطابق طالبان دہشتگردوں نے آج ارگون سے پکتیکا کے راستے میں صدر کرزئي کے کاروان پر حملہ کیا ہے۔ صدراتی کاروان حامد کرزئي کے دورہ ارگوں کی تیاریوں کے لئے جارہاتھا۔ مزید تفصیلات معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔

.......

/169