17 جولائی 2014 - 14:57
ایران اور 5+1 کے مذاکرات جاری

ايران اور دنيا کي چھے بڑي طاقتوں کے درميان مشترکہ ايکشن پلان کے تحت حتمي ايٹمي معاہدے کے لئے بيس جولائي کي تاريخ معين کي گئي ہے جس ميں صرف چند دن ہي باقي بچے ہيں ۔

ابنا: ايران اور دنيا کي چھے بڑي طاقتوں کے درميان مشترکہ ايکشن پلان کے تحت حتمي ايٹمي معاہدے کے لئے بيس جولائي کي تاريخ معين کي گئي ہے جس ميں صرف چند دن ہي باقي بچے ہيں ۔ دونوں فريقوں کي طرف سے گفتگو ميں زيادہ شفافيت اور صراحت آگئي ہے اور گروپ پانچ جمع ايک کے مذاکرات کار اور سينئر ڈپلوميٹ اپنے اعلي حکام سے تبادلہ خيال اور مشاورت ميں سرگرم ہيں ۔

امريکي وزير خارجہ جان کيري بھي ويانا ميں تين يورپي ملکوں ، برطانيہ، جرمني اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے ساتھ تبادلہ خيال نيز ايران کے وزير خارجہ کے ساتھ مذاکرات کے کئي دور انجام دينے کے بعد واشنگٹن گئے اور بدھ کو صدر باراک اوباما سے ملاقات ميں ، ايٹمي مذاکرات کے بارے ميں مکمل رپورٹ انہيں پيش کي ۔
امريکي صدر باراک اوباما نے وزير خارجہ جان کيري سے ملاقات کے بعد صحافيوں کو بتايا ہے کہ وزير خارجہ جان کيري اور نيشنل سيکورٹي ٹيم کي رپوٹ سے پتہ چلتا ہے کہ چند امور ميں پيشرفت ہوئي ہے اور ايران کے ساتھ جامع سمجھوتے ميں اب تھوڑا سا راستہ اور طے کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانگرس اور اپنے اتحاديوں سے بيس جولائي کے بعد مذاکرات کي مدت ميں توسيع کےبارے ميں مشاورت کريں گے ۔
دوسري طرف اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ نے بدھ کي رات ويانا ميں صحافيوں سے گفتگو ميں اميد ظاہر کي ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران اہم فيصلے کئے جائيں گے۔ انہوں نے مذاکرات کي موجودہ روش کے بارے ميں کہا کہ اس وقت زيادہ توجہ پابنديوں کو ختم کرنے سميت چند اہم موضوعات اور اسي طرح مذاکرات کي مدت ميں توسيع پر مرکوز ہے اور اميد ہے کہ آئندہ چند روز ميں اس سلسلے ميں فيصلہ کرليا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال ايسي ہے کہ خاص طور پر گروپ پانچ جمع ايک کي جانب سے سنجيدگي کے ساتھ اہم فيصلوں کي ضرورت ہے اور اميد ہے کہ يہ ممالک معاملے کے حل کے لئے، فيصلے کريں گے ۔ وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے کہا کہ اگر گروپ پانچ جمع ايک کے اندر صحيح عزم و ارادہ ہو تو راہ حل تک پہنچا جاسکتا ہے ۔
انہوں نے اس سوال کے جواب ميں کہ کہا جارہا ہے کہ جمعے تک مذاکرات روک ديئے جائيں گے اور اس کے بعد دوبارہ شروع ہوں گے ، کہا کہ ابھي اس بارے ميں کوئي فيصلہ نہيں کيا گيا ہے ، اور جب بھي ہم نے محسوس کياکہ مذاکرات کو روک کے دوسري شکل ميں جاري رکھنے کي ضرورت ہے ، تو ہم اس بارے ميں ضروري فيصلہ کريں گے ليکن ابھي کسي نے بھي يہ فيصلہ نہيں کيا ہے ۔

.......

/169