12 جولائی 2014 - 13:52
سعودي عرب ميں انساني حقوق کي خلاف ورزي

انساني حقوق کے عالمي ادارے نے سعودي عرب ميں انساني حقوق کي خلاف ورزيوں پر کڑي تنقيد کي ہے۔

ابنا: رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انساني حقوق کے کميشن کي سربراہ " ناوي پلائي" نے سعودي عرب کے فرسودہ عدالتي نظام ميں لوگوں کے ساتھ بد سلوکي اور ايذا رساني کے عمل پر کڑي تنقيد کي ہے۔ ناوي پلائي نے انساني حقوق کے حامي ايک سعودي شہري " وليد ابوالخير" کو پندرہ سال قيد کي سزا سنائے جانے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے سعودي حکام سے مطالبہ کيا کہ ايسے تمام افراد کو رہا کيا جائے جو انساني حقوق کے دفاع کي خاطر طويل الميعاد قيد کي سزا بھگت رہے ہيں۔

اقوام متحدہ کے انساني حقوق کے کميشن کي سربراہ " ناوي پلائي" نے کہا کہ وليد ابوالخير کا کيس سعودي عرب ميں انساني حقوق کے لئے کام کرنے والوں کے خلاف ايذا رساني کا عمل جاري رہنے کي نماياں مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودي حکومت، انساني حقوق کے لئے کام کرنے والوں کو ايسے جرائم کا مرتکب ٹہراتي ہے کہ جس کي انسداد دہشت گردي کے نام نہاد قانون ميں انتہائي مبہم تعريف کي گئي ہے۔
ناوي پلائي کا کہنا ہے کہ سعودي عرب کي عدليہ نے دوہزار آٹھ ميں انسداد دہشت گردي کا قانون پاس کيا ہے کہ جو دراصل انساني حقوق کي آواز بلند کرنے والوں کو تنگ کرنے کے مقصد سے وضع کيا گيا ہے ۔ واضح رہے کہ امريکہ اور مغربي کا اتحادي ہونے کي بناپر عالمي اداروں اور مغربي ميڈيا کي جانب سے سعودي عرب ميں انساني حقوق، آزادي بيان اور جمہوري اقدار کي پاماليوں کا کبھي نوٹس نہيں ليا جاتا۔

.......

/169