ابنا: رپورٹ کے مطابق، جمعرات کی صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ پٹی کے خان یونس علاقے میں دو گھر پر حملہ گیا۔
طبی ذرائع کے مطابق اس حملے میں ساتھ افراد شہید ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ذرائع نے بعد میں بتایا کہ اسرائیل کے فضائی حملے میں شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہو گئی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شہداء اور زخمیوں کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ اس طرح سے منگل سے اب تک اسرائیل کے فضائی حملے میں شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 82ہو گئی ہے۔ ان حملوں میں پانچ سو سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ادھر اسرائیلی حملوں کے بعد فلسطینیوں نے جوابی کارروائی میں اسرائیلی قبضے والے فلسطینی علاقے ڈیمونا پر دو راکٹ فائر کیے ہیں جہاں اسرائیل کے جوہری تنصیبات موجود ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ٹوئٹر پر اپنے پیج پر اعتراف کیا ہے کہ آئرن ڈوم اینٹي میزائل سسٹم، فلسطینیوں کی طرف سے فائر کئے گئے تین میزائلوں میں سے دو کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔
اسی درمیان تل ابیب نے کہا ہے کہ فلسطینیوں نے اس کے علاقوں پر بدھ کے دن مجموعی طور 70 میزائل فائر کئے ہیں۔
تازہ رپورٹ کے مطابق حماس کی طرف سے فائر کیا گیا ایک میزائل اسرائیل کی رگاوم ملٹری بیس پر لگا ہے جبکہ ایک اور راکٹ، ایشدود میں ایک گھر پر گرا ہے اور بیناے شیمون اور راحت اسرائیلی کالونیوں میں دن بھر خطرے کے سائرن بجتے رہے۔
بدھ کو ہی غزہ سے تقریبا سو كیلوميٹر کے فاصلے پر واقع حديرا علاقے میں تین میزائیل گرے جبکہ اشكول اور حیفا شہروں پر بھی ایک ایک راکٹ گرے اور سدوروت علاقے پر تقریبا ایک درجن میزائل مارے گئے۔
اسرائیلی اخبار ہآریٹزکے مطابق میزائل سے خوفناک آگ لگ گئی جسے فائر برگیڈ کے اہلکار بجھا نہیں پا رہے تھے۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ پٹی پر مسلسل حملوں کے بعد فلسطینیوں کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارروائی کے بعد اسرائیل میں فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں۔
جبکہ سیاحوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے اور ہوٹل ریزرویشن کینسل کئے جا رہے ہیں اور امریکہ نے تل ابیب میں اپنے سفارت خانے کو بند کر دیا ہے۔
اسرائیل نے اپنے تین شہریوں کے قتل کو بہانہ بنا کر غزہ پر حملہ شروع کیا تھا جبکہ حماس نے اس اغوا اور قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔
ابھی تک یہ پتہ نہیں چل پایا ہے کہ تین اسرائیلی شہریوں کے قتل میں کس کا ہاتھ تھا کیونکہ اغوا کے کچھ دنوں بعد ان کی لاشیں ملی تھی۔
اس قتل کے بعد مغربی ممالک نے وسیع پیمانے پر رد عمل ظاہر کیا ہے اور اسے دہشت گردانہ کارروائی کہہ کر اس واقعہ کی سخت مذمت کی تھی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی ان تین نوجوان کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔
اس واقعہ کے بعد اسرائیلی کالونیوں کے باشندوں نے ایک سولہ سالہ فلسطینی نوجوان کو اغوا کیا اور اس کے بعد اسے زندہ جلا دیا تھا۔
.......
/169