ابنا: رپورٹ کے مطابق شام کی حکومت کے مخالف اتحاد کے رہنما میشل کیلو نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار القدس العربی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پچاس کروڑ ڈالر کے شام برآمد ہونے والے ہتھیار، اختلافات اور افراتفری کی وجہ سے غائب ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک سے فروخت گئے ہتھیار بالخصوص ترکی سے آنے والے ہتھیار، ترکی لوٹ گئے اور وہاں فروخت کئے جا رہے ہیں۔
میشل کیلو نے کہا کہ اسی طرح عراق سے آنے والے ہتھیار، عراق میں فروخت کئے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دلال موجود ہیں، کچھ لوگ گھر بنا رہے ہیں تاکہ وہاں مال جمع کریں، انہوں نے شام کے عوام کے مال، تیل اور گیہوں پر ڈاکہ ڈالا اور اب ہتھیاروں کے کاروبار میں مصروف ہیں۔
میشل نے شامی حکومت کے مخالف اتحاد کے سربراہوں کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین کی شکست کی بنیادی وجہ، فیصلوں میں ان کی من مانی ہے اور اسی وجہ سے شام کی اپوزیشن آپس میں الجھ پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظریہ کی وجہ سے اتحاد کے سربراہ، بغیر کسی سے صلاح و مشورے کے فیصلوں میں من مانی کرتے ہیں۔
.......
/169