30 جون 2014 - 12:49
داعش کی جانب سے اسلامی حکومت کی تشکیل کا اعلان، ابوبکر البغدادی تمام مسلمانوں کے خلیفہ+ تصاویر

تکفیری دھشتگرد گروہ جو خود کو ’’الدولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام‘‘ کے نام سے پکارتا ہے نے ماہ رمضان کے پہلے دن اعلان کیا ہے کہ اس نے عراق اور شام میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھ دی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تکفیری دھشتگرد گروہ جو خود کو ’’الدولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام‘‘ کے نام سے پکارتا ہے نے ماہ رمضان کے پہلے دن اعلان کیا ہے کہ اس نے عراق اور شام میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھ دی ہے۔
ایک آڈیو بیان کے اندر جو داعش کی طرف سے سوشل نٹ ورک پر جاری کیا گیا ہے ابو محمد العدنانی جو خود کو داعش کا ترجمان کہتا ہے نے اعلان کیا ہے کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو گیا ہے اور ابوبکر البغدادی خلفیہ مسلمین کے عنوان سے مقرر ہو گئے ہیں۔
اس نے اس آڈیو بیان میں خود کو ’’ اہل حل و عقد‘‘ کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے اسلامی حکومت کا قیام عمل میں لائے جانے کا اعلان کیا ہے کہ شیخ ابوبکر البغدادی کی خلیفۃ المسلمین کے عنوان سے بیعت کی جا رہی ہے۔
العدنانی نے یہ کہتے ہوئے کہ داعش کے سربراہوں نے خلافت اسلامیہ کی بنیاد رکھ دی ہے کہا: اس گروہ نے شیخ ابوبکر البغدادی کی بیعت کر دی ہے اور انہیں خلیفۃ المسلمین کے منصب پر منصوب کر دیا گیا ہے اور انہوں نے بھی اس منصب کو قبول کر کے پورے عالم اسلام کی رہبری کا عہدہ سنبھال لیا ہے!
اس نے مزید تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے مجاہدوں نے سرحدوں کے بتوں کو توڑ دیا ہے یہ سرحدیں تھی جنہوں نے اسلامی ممالک کے درمیان فاصلہ ایجاد کر رکھا تھا اور اسلامی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھے تھے۔
داعش کے ترجمان نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اسلامی خلافت پیغمبر اکرم اور الہی وعدوں کے مطابق عمل کرے گی!
العدنانی نے مزید کہا: البغدادی نے کمانڈروں، مجلس  شوریٰ اور تمام ارکان کی بیعت قبول کر لی ہے اور آج سے وہ پوری دنیا میں تمام مسلمانوں کے امام اور خلیفۃ ہیں۔
اس نے مزید کہا: آج سے اسلامی حکومت سے عراق اور شام کا نام حذف کر دیا گیا ہے اور آج سے تمام بیانات اور پیغامات صرف اسلامی حکومت کے نام سے جاری کئے جائیں گے۔
اس نے مزید کہا: طاغوت نے اسلامی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھے تھے اور وہ عراق اور شام کو الگ الگ کر کے ان پر حکومت کر رہے تھے۔
واشنگٹن کی جرج یونیورسٹی کے شعبہ انٹرنیشنل تعلقات کے استاد پروفیسر نبیل میخائیل نے کہا ہے: عراق اور شام میں اسلامی حکومت (داعش) نامی گروہ نے اعلان کر دیا ہے کہ اس نے اسلامی حکومت کی بنیاد رکھ دی ہے اور ابوبکر البغدادی کو اس حکومت کا رہبر اور تمام مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ ایسے حال میں ہو رہا ہے کہ خود داعش کے پاس کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ داعش کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کے لیے خلیفہ مقرر کرے اور اس کے بعد ان کا رہبر کوئی فتویٰ دے جو تمام مسلمانوں کے لیے لازم الاجرا ہو۔
انہوں نے مزید کہا: ایسی حکومت کی بنیاد رکھنا بے اساس ہے اور ایسی حکومت کوئی دینی جوازیت نہیں رکھتی اور کوئی دینی رہبر ایسی حکومت بنانے کا حق نہیں رکھتا۔ شیعہ سنی اور دیگر اسلامی فرقے ایسی حکومت کو رد کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس چیز کا پہلے مرحلے میں ہی مقابلہ کریں اس لیے کہ اگر ایسا نہ کیا تو یہ حکومت اپنے لیے شرعی جوازیت تلاش کرے گی جس کے نتائج مزید بھیانک ہوں گے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل داعش کے ایک رکن نے ابوبکر البغدادی کی طرف سے دئے گئے اس فتوے کا اعلان کیا تھا کہ خانہ کعبہ میں اب خدا کی عبادت نہیں ہو رہی ہے اس لیے اسے پہلی فرصت میں مسمار کر دیا جائے گا۔ اس تکفیری گروہ جو در اصل استعماری طاقتوں کے ذریعے عربی غربی ممالک کی حمایت میں وجود میں لایاگیا کا مقصد یہ ہے کہ وہ اسلام کے نام پر تمام تر بناہ کاریوں کا مرتکب ہو کر اسلام کو بدنام کرے فلسطین کی جانب سے مسلمانوں کی توجہ کو ہٹا دے تاکہ صہیونیت با خیال راحت اپنے مقاصد کو پہنچ سکے۔

داعش کے حامی اسلامی حکومت کی تشکیل پر خوش

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲