13 جون 2014 - 20:38
ترک حکومت کے مخالفین پر مقدمہ کا آغاز

ترک حکومت کے بیس مخالفین پر گذشتہ برس گزی پارک میں تخریب کاری اور حکومت مخالف مظاہرے کروانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجسنی۔ابنا۔ ترک حکومت کے بیس مخالفین پر گذشتہ برس گزی پارک میں تخریب کاری اور حکومت مخالف مظاہرے کروانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ گذشتہ برس ترک حکومت کے خلاف گرچہ ماحولیاتی مسئلے کے حوالے سے مظاہرے شروع ہوئے تھے لیکن یہ مظاہرے تیزی سے سیاسی رنگ و بو اختیار کرگئے اور اکثر بڑے شہروں میں ہونے لگے۔ یہ مظاہرے اردوغان حکومت کے لئے ڈراونا خواب ثابت ہوئے تھے اور اردوغان نے مظاہرین کو دہشتگرد اور وطن کے خائنوں جیسے القاب سے نوازا تھا۔ ان مظاہروں سے ترکی سیاسی اعتبار سے بھی عالمی رائے عامہ کے سامنے آگیا کیونکہ ترکی خود کو جمہوریت کا دعویدار کہتا ہے۔ ترک شہریوں کے مظاہروں کو ترک پولیس کے تشدد آمیز رویوں سے بھی عالمی شہرت حاصل ہوئي کیونکہ ترک پولیس کے تشدد آمیز برتاو میں دسیوں مظاہرین جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے تشدد کا جواز پیش کرتے ہوئے اردوغان نے یہ کہا کہ دنیا کے آزاد ممالک جیسے برطانیہ اور جرمنی میں بھی پولیس تشدد کے ساتھ مظاہرین سے پیش آتی ہے لیکن اردوغان کے ان بیانات سے بھی ان کے خلاف عالمی سطح پر جاری تنقیدوں کا سلسلہ ختم نہيں ہوا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے ہیومین رائٹس واچ اور دیگر تنظیموں نے حکومت انقرہ کی جانب سے مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال اور انٹرنیٹ نیز ذرائع ابلاس کو محدود کرنے کی کوششوں پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ حکمران پارٹی ان اقدامات سے اپنی حکومت کو تقویت پہنچانا چاہتی ہے۔ حکومت انقرہ کی ان پالیسیوں کے باوجود گاہے بگاہے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کے قریبی افراد کی مالی بدعنوانیوں کے سامنے آنے کے موقع پر، گزی پارک کے مظاہروں کی سالگرہ کے موقع پر یا مظاہروں میں مارے جانے والوں کی برسی کے موقع پر یا عالمی یوم مزدور کے موقع پر ترک حکومت کے خلاف ملک گير مظاہرے ہوئے ہیں۔ ترکی میں اس طرح کے نیشب وفراز تشویشناک قراردئےجاتے ہیں بالخصوص ایسے عالم میں جبکہ ترکی میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ترک حکومت یہ سرتوڑ کوشش کررہی ہے کہ ملک میں دوبارہ حکومت مخالف مظاہرے نہ ہونے پائيں، بظاہر بلدیاتی انتخابات میں حمکران پارٹی کی جيت سے اس کے ہاتھ یہ سنہری موقع لگ گيا ہےکہ وہ حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث افراد کے ساتھ سختی سے پیش آسکے۔ مظاہرے کرانے والے بعض افراد پر نقض امن، اورسوشیل نیٹ ورکس کے سہارے  حکومت کے خلاف غیر قانونی مظاہرے کرانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے، اس امر کو حکومت کی نئي کامیابی کے تناظر میں ہی دیکھنا چاہیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرہ کروانے والوں پر مقدمہ سیاسی وجوہات کی بنا پر چلایا جارہا ہے اور حکومت کے پاس اس کے لئے کافی ثبوت و شواہد نہیں ہیں اور اس عدالتی کاروائی کو جلد از جلد ختم کیا جانا چاہیے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں کے تعلق سے ترک حکومتوں کی کارکردگي کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہےکہ انسانی حقوق تنطیموں کا احتجاج موثر واقع نہيں ہوگا۔    

............

242