اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ المیادین ٹی وی چینل کی رپورٹ کےمطابق عدلی منصور نے صدر کی حیثیت سے اپنی آخری تقریر میں کہا کہ مصر کو ایسے چیلنجوں کا سامنا ہے جو قوم کے اتحاد اور تشخص کے لئے خطرہ ہیں ۔ منصور نے مزید کہا کہ مصر کی قوم کو ایک ایسی اندھی دہشت گردی کا سامنا ہے جو کسی بھی دین یا ملک میں نہیں ہے اور اس ملک ميں دین مخالف حقائق کو دوسروں پر مسلط کیا جارہا ہے ۔ دوسری جانب فارس نیوز ایجنسی نے یہ خبر دی ہے کہ مصر کے عبوری اعظم نے یہ اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت صدارتی انتخابات میں عبدالفتاح السیسی کی کامیابی کے بعد آئندہ پیر کو مستعفی ہوجائے گي ۔ واضح رہے کہ مصر کے متنازعہ اليکشن ميں کہ جس کا اخوان المسلمين اور اس کي اتحادي پارٹيوں نے بائيکاٹ کا اعلان کيا تھا، حمدين الصباحي، سابق فوجي سربراہ عبدالفتاح السيسي کے مد مقابل تنہا اميد وار تھے- حمدين الصباحي کو صرف تين فيصد ووٹ حاصل ہوئے - مصر کے اليکشن کميشن کے مطابق انتخابات ميں ووٹوں کي شرح سينتاليس فيصد رہي اور عبدالفتاح السيسي ستانوے فيصد ووٹ حاصل کرکے صدر منتخب ہوگئے- ادھر مہر خبررساں ایجنسی نے الیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مصر کے نئے صدر عبد الفتاح السیسی کی حلف برداری کی تقریب میں غیر ملکی مہمانوں کو دعوت دینے والے مصری حکام نے کہا ہے کہ ترکی اور قطر کو السیسی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئي ہے ۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے نائب ولیعہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز، کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد ، مراکش کے بادشاہ محمد ششم، بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی، یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی، روسی صدر کے خصوصی نمائندے کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئي ہے ذرائع کے مطابق حلفب برداری کی تقریب اتوار کو منعقد ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲