2 جون 2014 - 11:08
سری نگر میں کئی علماء گرفتار

سری نگر میں شراب فروشی کے خلاف مظاہرہ، کئی علماء گرفتار

ابنا: ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے شہر سرینگر کے انتہائی حساس علاقے اندرا نگر میں پولیس نے شراب فروشی کے خلاف نکالے گئے احتجاجی مظاہرے پر یلغار کرتے ہوئے 2 درجن کے قریب علمائے کرام کو حراست میں لے لیا ۔اس دوران علمائے احناف نے واضح کیا کہ ان کی یہ مہم تب تک جاری رہے گی جب تک سرزمین اولیاء سے اس خباثت کو ختم نہیں کیاجاتا ۔ علمائے احناف نے یکم جون کو وادی بھر میں شراب مخالف دن منانے کا اعلان کیا تھا جبکہ شراب فروشی اور اس کے کسی بھی طرح کے استعمال کے خلاف احتجاج کے طور پر دھرنا دینے کا پروگرام بنایا تھا ۔
سری نگر سے موصولہ رپورٹ کے مطابق علمائے احناف کے جھنڈے تلے چلڈرن اسپتال کے نزدیک اتوار صبح 11 بجے کے قریب بیسیوں لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے شراب فروشی کے خلاف نعرہ بازی کی۔ اس موقع پر علمائے کرام کے علاوہ عام لوگوں کی بڑی تعداد نے بھی دھرنے میں شرکت کی جبکہ احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر شراب مخالف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر احتجاجی مظاہرین نے اندرا نگر میں قائم شراب دکان کی طرف سے مارچ کرنے کی کوشش کی تاہم اس سے قبل کہ وہ پیش قدمی کرتے پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ مظاہرین نے اگرچہ کچھ دیر تک نعرہ بازی کرتے ہوئے مزاحمت کی تاہم پولیس کے حصار کو وہ توڑنے میں وہ ناکام رہے۔ احتجاجی مظاہرے کی وجہ سے سڑک پر گاڑیوں کی آمد و رفت بھی رک گئی جبکہ اس مصروف ترین شاہراہ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔ اس موقع پر پولیس نے حر کت میں آکر انجمن علمائے احناف کے سربراہ مولانا اخضر حسین اور رابطہ ائمہ مساجد کے مولانا وارث کے علاوہ مولانا عاشق ، مولانا مقصود ، مولانا شبیر الحسن ، مولانا اقبال اور مولانا محمد یعقوب سمیت ایک درجن سے زائد علماء کوحراست میں لے لیا۔
اس سے قبل انجمن علمائے احناف کے صدر مولانای اخضر حسین نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرزمین اولیاء سے شراب اور دیگر خرافات کا جنازہ نکالنے کیلئے انجمن علمائے احناف سر بہ کفن ہے اور کسی بھی حکمران کے سامنے اس حوالے سے سر جھکانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انجمن عملائے احناف کے سربراہ نے الٹی میٹم دیتے ہوئے محکمہ ایکسائز سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر سونہ وار اور بلیوارڈ پر شراب کی دکانوں کو بند کریں ورنہ اس سلسلے میں ریاست گیر تحریک چلائی جائے گی۔ مولانا اخضر نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ شراب کے خلاف متحدہ ہو کر منظم مہم چلائیں تاکہ سرزمین کشمیر سے اس وباء کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے راجستھان کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے لوگوں نے متحدہ ہو کر شراب کے خلاف محاذ کھولا جبکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور ہمیں بھی سبق حاصل کر کے شراب مخالف مہم کا آغاز کرنا چاہئے۔

.......

/169