ابنا: اخباروں اور چینلوں پر نشر شدہ رپورٹوں کے مطابق شام میں دو لاکھ پینتالیس ہزار تکفیری دہشتگردوں میں سے اب صرف چھیانوے ہزار باقی بچے ہیں۔ سعودی عرب نے سب سے زیادہ دہشتگرد شام بھیجے ہیں۔ ان دہشتگردوں کا تعلق ستاسی ملکوں سے ہے۔ ایک امریکی ریسرچ سینٹر سوریہ الان کی تحقیقات کے مطابق اپریل دوہزار گیارہ سے دسمبر دوہزار تیرہ تک شام میں غیر ملکی دہشتگردوں کی تعداد دو لاکھ پینتالیس ہزار تھی۔ اس تعداد میں سے اٹھاون ہزار ہلاک اور بیاسی ہزار واپس جاچکے ہیں اور بارہ ہزار لاپتہ ہیں جب کہ چھیانوے ہزار مختلف گروہوں کے نام سے شام کی حکومت اور قوم کے خلاف انسانیت سوز اقدامات کرنے میں مشغول ہیں۔ جن اداروں نے یہ تحقیقات انجام دی ہیں کہا ہے کہ تاریخ میں دہشتگردوں کا سب سے بڑا اجتماع شام میں دیکھنے کو ملا ہے اور اٹھاسی ملکوں کے دہتشگردوں کو شام میں جمع کیا گيا تھا۔ شام میں لڑنے والے تکفیری دہشتگردوں میں بارہ ہزار سات سو ساٹھ کا تعلق امریکہ اور یورپی ملکوں سے ہے جن میں دو ہزار تراسی دہشتگرد اپنے ممالک واپس جاچکے ہیں جب کہ ان میں پانچ سو چہتر کی شہریت سلب کرلی گئي ہے۔ سعودی عرب نے سب سے زیادہ دہشتگرد شام بھیجے ہیں۔ سعودی عرب کے دہشتگردوں کی تعداد انیس ہزار سات سو ہے جن میں چار ہزار ہلاک ہوئے ہیں۔ تیونس سے سب سے زیادہ خواتین شام بھیجی گئي تھیں۔ ان خواتین کو وہابی تکفیریوں کے ننگ اسلام اور انسانیت سوز فتوے جہاد النکاح میں شرکت کی غرض سے شام بھیجا گيا تھا۔ ان عورتوں میں سے اٹھارہ ہلاک ہوگئي ہیں۔ عمان کے علاوہ خلیج فارس کے عرب ملکوں نے چوتیس ملین ڈالر دہشتگردوں کو دئیے ہیں، قطر نے تیرہ ملین ڈالر، سعودی عرب نے گیارہ ملین ڈالر اور دیگر ملکوں نے دہشتگردوں کو اپنے ڈالروں سے نوازا ہے۔ شام میں لڑنے والے دہتشگردوں میں سب سے زیادہ مہارت چیچن جنگجوؤں کو ہے اور سب سے زیادہ اناڑی سعودی عرب کے دہشتگرد ہیں۔ ترک فوج نے تقریبا دو سو سینتالیس فوجی اور افسروں کو براہ راست شام کی جنگ میں لڑنے کے لئے بھیجا تھا ان افراد میں جو مارے گئے ہیں انہیں یہ کہہ کر دفن کردیا گيا کہ وہ ٹریننگ کے دوران یا پھر کردوں کےحملوں میں مارے گئے ہیں۔
1 جون 2014 - 09:37
News ID: 612753
شام میں دو لاکھ پینتالیس ہزار تکفیری دہشتگردوں میں سے اب صرف چھیانوے ہزار باقی بچے ہیں۔ سعودی عرب نے سب سے زیادہ دہشتگرد شام بھیجے ہیں۔