ابنا: ذرائع کے حوالے سے نقل ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے ملک میں انتہا پسند خیالات کے حامل وہابی علماء پر امام مسجد کی حیثیت سے تقرری پر پابندی عائد کردی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی وزارت اسلامی امور کے مشیر شیخ طلال احمد العقیل کا کہنا تھا کہ ریاست میں قائم مساجد کے امام کی تقرری باقاعدہ امتحان اور انٹرویوز کے بعد عمل میں آتی ہے اور اس عمل کی نگرانی وزارت اسلامی امور کی 5 رکنی کمیٹی کرتی ہے۔ وزارت اسلامی امور اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ انتہا پسند خیالات کے حامل کسی بھی وہابی عالم کو مسجد کے منبر و محراب تک رسائی حاصل نہ ہو سکے۔ امام جماعت پر لازم قرار دیا جائے گا کہ وہ اپنے خطبات اور گفتگو میں معاشرتی اصلاح پر توجہ دیں۔ آئمہ مساجد کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ نمازیوں کو دہشت گردانہ خیالات ترک کرتے ہوئے اعتدال پسند افکار اپنانے کا درس دیں۔ سعودی عرب کو وہابیت کا گڑھ قراردیا جاتا ہے اور اسلامی ممالک میں جاری دہشت گردی میں سعودی عرب کے وہابیوں کا کلیدی کردار ہے پہلے سعودی حکومت دہشت گردوں کی دل کھول کر حمایت کرتی رہی ہے لیکن اب اسے خو خطرات لاحق ہوگئے ہیں اس لئے وہ دوسرے ممالک میں وہابیوں اور القاعدہ کے حامیوں کی بھر پور مدد کررہی ہے لیکن سعودی عرب میں القاعدہ اور اس کے حامیوں سلفی وہابیوں کو سراٹھانے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔
26 مئی 2014 - 11:06
News ID: 611469
سعودی عرب کی حکومت نے ملک میں انتہا پسند خیالات کے حامل وہابی علماء پر امام مسجد کی حیثیت سے تقرری پر پابندی عائد کردی ہے۔