ابنا: لندن میں مقیم بحرینیوں نے برطانوی وزیراعظم ڈیویڈکیمرون کے دفترکے سامنے جمع ہوکر آل خلیفہ حکومت پرتنقید کی۔ ذرائع کےمطابق مظاہرین نے بحرین ميں آل خلیفہ اورآل سعود کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے مغربی حکومتوں بالخصوص برطانوی حکومت کی حمایت کا سلسلہ بند کئے جانے کا مطالبہ کیا۔
بحرینی مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بحرین میں گذشتہ تین برس ميں شہید کئے جانے والے مظاہرین اور سیاسی شخصیات کی تصاویر اٹھارکھی تھیں اور وہ آل خلیفہ اورآل سعود کےخلاف نعرے لگا رہے تھے۔لندن میں مقیم بحرینی اس سے قبل بھی برطانیہ میں بحرین اور سعودی عرب کے سفارتخانوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کرتے رہے ہيں۔
درایں اثنا برطانوی پارلیمنٹ کے کچہ نمائندوں نے ایک خط پر دستخط کرکے بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی اور پرامن مظاہرین کی سرکوبی کا سلسلہ بندکئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس خط میں، جس پر پارلیمنٹ کے چالیس ممبران نے دستخط کئے ہیں، آیا ہے کہ افسوس ہے کہ بحرین میں بچوں اور نوجوانوں کی خودسرانہ گرفتاریوں، اور مخالفین کے شہری حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے اور تقریبا تین ہزار سیاسی کارکن، جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بحرینی حکومت کو کسی طرح کا اسلحہ برآمد نہ کیا جائے اور آل خلیفہ حکومت سے انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ بند کئے جانے کا سنجیدگی سے مطالبہ کیاجائے۔
.......
/169