13 اپریل 2014 - 03:55
میانمار کے مسلمان، مسلمانوں کی طرف سے فراموشی کا شکار

میانمار کے انتہاپسند بڈھسٹ گزشتہ دو برسوں سے کسی روک ٹوک کے بغیر راخین کے مسلمانوں پر حملے کررہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں سیکڑوں مسلمان مارے جاچکے ہیں ، ہزاروں گھروں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے اور کئي ہزار مسلمان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ میانمارمیں بدھسٹوں کی اکثریت پر مشتمل  چھ کروڑ سے زائد  آبادی والے ملک ميں بعض حکام نے اس ملک میں 2011 میں فوجی اقتدار کے خاتمے کے بعد، عوام سے اصلاحات انجام دینے کا وعدہ  کیا تھا لیکن ان حکام نے میانمار میں اصلاحات کے بجائے اس ملک کے مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کیا اور ان مظلوم مسلمانوں کو  تشدد، نسلی کشی، قتل عام اور دربدری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایسا تشدد جو ہر دن ایک نئی شکل اور صورت اختیار کر رہا ہے کہ جو میانمار ميں مسلمانوں کے امور تک سنجیدگی سے رسائی کے لئے، عالمی برادری کے لئے ایک انتباہ ہو سکتا ہے ۔ اگرچہ عدلیہ کے حکام نے بارہا بین الاقوامی اداروں کو، مسلمانوں پر حملہ کرنے والوں کی شناخت کرنے اور ان کا پتہ لگانے اور عدل و انصاف کرنے کا وعدہ کیا لیکن میانمار کی پناہ گزیں مسلمان خواتین کے ساتھ اس ملک کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فوجی اڈوں ميں جنسی زیادتی سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف انجام پانے والی غیر انسانی اور المناک صورتحال کی تحقیقات کرنے ميں سنجیدہ نہيں ہیں۔ یہی نہیں بلکہ میانمار کے مسلمانوں کے خلاف دو ہزار بارہ کے اوائل سے بدھسٹوں نے اپنے حملوں کا آغاز کیا تھا۔  یہ حملے جون دو ہزار بارہ تک جاری رہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان جاں بحق ، سیکڑوں زخمی، دو سو لاپتہ اور ایک لاکھ سے زیادہ نقل مکانی پر مجبور ہوگۓ۔ مسلمانوں پر ہونے والے حملوں میں چار ہزار سے زیادہ مکانات منہدم ہوگۓ جبکہ سترہ سے زائد مساجد کو بھی شہید کردیا گيا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کی تعداد آٹھ لاکھ سے لے کر دس لاکھ تک ہے۔ اقوام متحدہ کے نزدیک میانمار کے مسلمان دنیا کی ایسی سب سے بڑی اقلیت ہیں جس کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود عالمی برادری خصوصا خود اقوام متحدہ ان مسلمانوں کو مشکلات سے نجات دلانے کے لۓ کوئی اقدام انجام نہیں دے رہی ہے۔ جبکہ میانمار کی حکومت مسلمانوں کو اپنے ملک کا شہری تسلیم نہیں کرتی ہے اور اپنے ملک سے ان کے چلے جانے کا مطالبہ کرتی رہتی ہے۔ میانمارکے روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں عالمی اداروں کی خاموشی کے باعث یہ مسلمان اپنے گھروں سے دور دوسرے علاقوں اور ممالک میں انتہائی ابتر حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
میانمار میں حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مختلف پابندیوں کے باوجود انتہا پسند بدھسٹوں کے حملے جاری ہیں۔ میانمار کے مغرب میں واقع صوبہ راخین میں بدھسٹوں کی جانب سے گذشتہ دو برس سے  مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ منصوبہ بند خونریز حملے ہوتے رہے ہیں جن میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔
بہت سے سیاسی مبصرین میانمار کے مغربی علاقے میں تازہ جھڑپوں کو گذشتہ برس مسلمانوں کے خلاف مسلط کئے گئے تشدد آمیز اقدامات اور محدود پالیسوں کو قرار دیتے ہیں ۔ اس لئے کہ جبری کوچ اور بہت سے مسلمانوں  کو بدھسٹوں سے جداکرنے کے بہانے ایسے حالات پیدا کردئیے  گئے ہیں کہ انھیں اپنے وطن پلٹ کر آنے کی کوئی امید نہیں ہے۔
مسلمانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کی حفاظت کی تاکید کے باوجود میانمار کے مغربی علاقے میں ان کی زندگياں خطرے میں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲