ابنا: نورمن اسٹاک ویل نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے اختیارات کم کرنے کے لئے رائے عامہ کے شدید دباؤ کے باوجود اوباما انتظامیہ اس ضمن میں کوئي کام انجام نہیں دے سکی ہے۔ اسٹاک ویل نے کہا ہے کہ اوباما انتطامیہ نے صرف یہ کہا ہے کہ وہ شہریوں کے ٹیلی فونوں کی جاسوسی ختم کروا دے گي تاہم ٹیلیفون کالز کی تفصیلات مواصلاتی کمپنیوں کے پاس ہی رہیں گي۔
قابل ذکرہے کہ امریکہ کی سپریم کورٹ نے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے ٹیلیفون جاسوسی کے پروگرام کے خلاف دائر درخواست مسترد کردی ہے۔ واضح رہے امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے نہ صرف امریکی عوام کی جاسوسی کی ہے بلکہ وہ بین الاقوامی سطح پر بھی جاسوسی کررہی ہے۔ امریکہ کے اتحادیوں نے اس کے جاسوسی پروگرام پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
.......
/169