اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ برطانوی اخبار فنانشئل ٹائمز کے مطابق چونکہ سعودی عرب کے پاس پیسہ ہے اس لئے وہ ضرورت کی ہر چیز خرید سکتا ہے، سعودی عرب پاکستان کا مضبوط اتحادی ہے جو پہلے ہی جوہری ریاست ہے، دنیا مشرق وسطٰی کے تیل پر انحصار کم کرکے متبادل توانائی کے ذرائع پر جا رہی ہے، سعودی عرب اپنے آپ کو اس قابل بنا رہا ہے کہ سول جوہری طاقت سے اس مقام پر پہنچ جائے جہاں چند ماہ میں جوہری ہتھیاروں کو بنایا جاسکے ۔ اخبار کے تفصیلی مضمون میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطٰی کے حالات معمول کے مطابق نہیں رہے۔ ایران کی طرف سے جوہری صلاحیتوں کے حصول کی کوششیں چھ ماہ سے جاری مذاکرات کے باوجود نہیں رکیں، کسی معاہدے کی عدم موجودگی میں دوسرے ممالک اس صورت حال کو بدترین سمجھ رہے ہیں، دیگر ممالک بھی اپنے ڈیٹرینس بنانے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔ خطے اور دنیا کی توانائی مارکیٹوں کے لیے بہت زیادہ خطرات ہیں۔ جوہری ٹیکنالوجی میں دلچسپی کی سعودی عرب یوں وضاحت کرتا ہے کہ وہ جوہری صلاحیت کو تیل کی جگہ بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کریں گے اور تیل کو برآمد کیا جاسکتا ہے۔ یقیناً سعودی عرب کی اس وضاحت میں حقیقت ہے، سعودی عرب کی ملک کے اندر تیل کی کھپت میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے جو اس وقت تین ہزار بیرل یومیہ سے زیادہ ہے۔ لیکن یہی دلائل ایران بھی اپنی جوہری صلاحیتوں کے حق میں دیتا ہے۔ ہارورڈ کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ سعودی عرب اسی انداز میں تیاری میں مصروف ہے اور اس طرح وہ سول نیوکلیئر پاور سے ایک قدم آگے جاکر چند ماہ میں ہی جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی طرف سے جانچ پڑتال انتہائی کم ہے۔ سعودی عرب بہت جلد ایٹمی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔ سعودی عرب کی نازک حکومت کے ہاتھوں میں جوہری ہتھیاروں کا امکان بہت برا ہے۔ سعودی عرب بنیادی طور پر ایک غیر مستحکم ملک ہے، ایسی صورت حال توانائی کی عالمی معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲