اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مقبوضہ فلسطین میں حالیہ دنوں میں روز زمین کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر غاصب صیہونی حکومت کے خلاف شدید مظاہرے ہورہے ہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ تیس مارچ 1976کو مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے فلسطینیوں نے شمالی علاقے الخلیل پرغاصب صیہونی حکومت کی جانب سے یہودی سازی کے منصوبے کے تحت کئے جانے والے قبضے کے خلاف احتجاج کیا جسے صیہونی حکومت نے بری طرح سے کچل دیا۔ صیہونی حکومت کے فوجیوں نے بکتر بندگاڑیوں کی مدد اور حمایت کے ذریعہ فلسطینی گاؤں پر حملہ کردیا اور اس گاؤں کے نہتے اور بے دفاع فلسطینیوں کو خاک وخون میں غلطاں کردیا۔
اس گاؤں پر صیونی حکومت کے فوجیوں کے حملے کے بعد سےفلسطین میں ہرسال تیس مارچ کے دن کو روز زمین کے عنوان سے منایا جاتاہے اور تمام فلسطینی اسرائیل کے جارحانہ مظالم کے خلاف مظاہرہ کرکے اپنی نفرت وبیزاری کا اعلان کرتے ہیں ۔
سن انیس سو اڑتالیس سے فلسطین پر قبضے کے بعد سے اسرائیل ہمیشہ فلسطینیوں کے خلاف ظلم وستم کررہا ہے اوردنیا غاصب صیہونی حکومت کی توسیع اور تسلط پسندانہ پالیسیوں کو دیکھ رہی ہے تیس مارچ سن انیس سو چھہتر میں فسلیطنیوں کا قتل عام صیہونی حکومت کے مظالم کا ایک حصہ ہے ۔غاصب صیہونی حکومت فسلیطنیوں کا قتل عام کرکے ان کے درمیان رعب وخوف ووحشت پھیلانا چاہتی ہے تاکہ وہ اسرائیل کی توسیع اور تسلط پسندانہ پالیسیوں کے مقابلے میں استقامت وپائیداری کو چھوڑ دیں اور اپنے جائز حقوق اور مطالبات سے دستبردار ہوجائیں ۔ لیکن فلسطینیوں کے پڑھتے ہوئے اعتراضات اورمظاہروں سے پتہ چلتا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے ہوناک مظالم نہ صرف فلسطینیوں کی استقامت کو نہیں روسکے ہیں بلکہ روز بروزاسرائیل کے خلاف نفرت وبیزاری اوراستقامت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
ایسے حالات میں غزہ کے محاصرے کے مقابلے میں تشکیل پانے والی کمیٹی کے سربراہ اور فلسطین کی قانون گذاری کونسل کے مستقل نمایندے جمال الخضری نے کہا ہے کہ روززمین کو فلسطینی گروہوں کےدرمیان اتحاد کے آغاز کادن ہونا چاہئیے ۔
حمال الخضری نے کہا ہے کہ روز زمین تمام فلسطینی گروہوں کے درمیان اتحاداور غاصب صیہونی حکومت کی سازشوں اور منصوبوں کے مقابلے میں استقامت کا دن ہے انھوں نے غاصب اسرائیل کے مقابلے میں فسلطینیوں کی استقامت وپائیداری قابل تعریف قرار دیا ۔
بہرحال روز زمین کی اڑتیسویں سالانہ تاریخ کی تقریب غاصب اسرائیل کے لئے یہ پیغام رکھتی ہے کہ فلسطینی اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اپنی سرزمینوں کوغاصب اسرائیل سے آزاد نہیں کرالیں گے ۔ یہ ایسے وقت روززمین کی برسی کے موقع پرفلسطین میں اور ساز باز مذاکرات کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے ہورہے ہیں ۔
قابل ذکر ہے کہ مشرق وسطی کے سلسلے میں ہونے والے سازباز مذاکرات جو گذشتہ کئی مہینوں سے شروع ہو چکے ہیں زمینوں کے تبانے کے بہانے ایک شیطانی حربہ ہے جس کے سبب صیہونی حکومت فلسطینیوں کی سرزمینوں کو زیادہ سے زیادہ غصب کرسکے ۔
.............
242