16 ستمبر 2026 - 17:39
بحرین میں 13 سے 15 سال کے بچوں کو سزائیں اور قید، مرآة البحرین کا سوال

لیڈ:ہوئے کہا ہے کہ بعض بچوں کو عدالت سے گرفتار کیا گیا، جبکہ ایک بیمار بچے کو آپریشن کے بعد بھی جیل میں رکھا گیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین میں بچوں کی گرفتاری اور قید کے واقعات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ انہیں الگ تھلگ یا غیر معمولی واقعات قرار دینا مشکل ہو گیا ہے۔ مرآة البحرین نے اپنی رپورٹ میں 13 سے 15 سال کی عمر کے متعدد بچوں کے مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے ان کے خلاف عدالتی کارروائی اور گرفتاریوں پر سوال اٹھایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران 13 سے 15 سال کی عمر کے ایسے بچوں کے نام سامنے آئے ہیں جن میں بعض کو قید کی سزائیں سنائی گئیں، بعض کو عدالت سے گرفتار کیا گیا جبکہ بعض کو جسمانی حالت خراب ہونے کے باوجود حراست میں رکھا گیا۔

تازہ ترین معاملہ 13 سالہ حسن سعید احمد کا ہے جسے ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ حسن کو اس سے قبل گرفتار کرکے رہا کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اسے اپنے ولی کی موجودگی اور وکیل تک رسائی کے بغیر تحقیق کے لیے پراسیکیوٹر کے دفتر برائے خاندان و اطفال طلب کیا گیا۔

مرآة البحرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کس عدالتی نظام میں 13 سالہ بچے کو سیاسی مخالف سمجھا جا سکتا ہے کہ اسے ایک سال قید کی سزا دی جائے؟ اور ایسی حکومت کون سی ہے جو 14 سال سے کم عمر بچے کو تحفظ دینے کے بجائے جیل بھیجنے کے قابل خطرہ سمجھتی ہے؟

حسن سعید احمد سے قبل الدیر سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ رضا ابراہیم کو 14 جولائی 2026 کو اظہارِ رائے سے متعلق ایک سیاسی مقدمے میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اسے 25 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا اور فیصلے تک حراست میں رکھا گیا۔

ایک اور معاملے میں علی ہانی کو 28 جولائی کو اپنی ایک سالہ قید کی سابقہ سزا کے خلاف اپیل کی سماعت میں شرکت کے لیے عدالت میں موجودگی کے دوران سکیورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق وہ نہ سڑک پر تھا اور نہ ہی کسی نامعلوم مقام پر، بلکہ عدالت میں موجود تھا، جہاں سے اسے دوبارہ حراست میں منتقل کردیا گیا۔

اسی طرح کراباد سے تعلق رکھنے والے 14 سالہ علی عبداللہ جمعہ اپنی ایک سالہ قید کی غیر حاضری میں سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت میں شرکت کے لیے عدالت پہنچا، تاہم اسے بھی عدالت کے اندر سے گرفتار کرلیا گیا اور اس کی اپیل کی سماعت ملتوی کردی گئی۔

رپورٹ میں سب سے زیادہ تشویش ناک معاملہ المقشع سے تعلق رکھنے والے 14 سالہ قاسم محمد حسین الموالی کا قرار دیا گیا ہے۔ اسے 21 مئی کو غیر مجاز اجتماع میں شرکت کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد عدالت سے گرفتار کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق قاسم کی جسمانی حالت خراب ہونے کے بعد اسے بچوں کے وارڈ سے السلمانیہ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا حساس آپریشن کیا گیا۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق آپریشن کے باوجود اسے رہا نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کی سزا میں کوئی کمی کی گئی۔

مرآة البحرین نے لکھا ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں بچوں کی اصلاح اور تحفظ کے حوالے سے کیے جانے والے تمام دعوے سوالات کی زد میں آ جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جب ایک بچہ اسپتال میں ہو اور اسے اپنے خاندان اور طبی نگہداشت کی ضرورت ہو تو معاملہ محض قانونی بحث تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک بیمار بچے کو جیل میں رکھنے کا فیصلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ بحرین کی صورت حال کا سب سے تشویش ناک پہلو صرف یہ نہیں کہ حکومت بچوں کو سزائیں دے رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ یہ عمل سرکاری بیانیے اور روزمرہ کے معمول کا حصہ بنتا جا رہا ہے؛ ایک بچے کو طلب کیا جاتا ہے، اس پر مقدمہ چلایا جاتا ہے، اسے قید کیا جاتا ہے، عدالت سے گرفتار کیا جاتا ہے اور حراست کے دوران اسے اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔

مرآة البحرین کے مطابق اصل مسئلہ ایسی حکومت کا ہے جو ایک بچے سے خوف محسوس کرتی ہے اور اپنی تمام طاقت، اداروں اور قوانین کے باوجود 13 سالہ بچے کو ایک ایسے مخالف کے طور پر دیکھتی ہے جسے جیل میں ڈالنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha