29 مارچ 2014 - 19:30
امریکی صدر کا دورہ سعودی عرب

امریکی صدر آج کل سعودی عرب کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نےسعودی فرمانروا عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے امریکی صدر کی شاہ عبداللہ سے ملاقات میں اوباما کے ساتھ سیکرٹری خارجہ جان کیری اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر سوسن رائس بھی موجود تھے۔

ابنا: دوگھنٹے سے زائد وقت پر مشتمل اس ملاقات میں  ایران کا ایٹمی پروگرام خصوصی طور پر زیر بحث رہا۔ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کے علاوہ ۔ شام، ، مصر اور مشرق وسطٰی میں امن کے معاملات بھی گفتگو کا موضوع رہے۔ اوباما اور شاہ عبداللہ کی ملاقات میں شام میں معتدل اپوزیشن کو فوجی اور دیگر پہلوئوں سے طاقتور بنانے کے طریقوں پربھی تبادلہ خیال ہوا۔وائٹ ہاؤس کے قریبی زرائع نے ملاقات سے پہلے کہا تھا کہ باراک اوباما اورسعودی فرمانروا عبداللہ بن عبدالعزیز کی  ملاقات میں شام، ایران کا ایٹمی پروگرام ،فلسطینی گروہوں کے غاصب اسرائیلی حکومت سے مزاکرات اورخطے میں  بڑھتی ہوئی دہشتگردی جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ریاض میں موجود امریکی سفارتی زرائع کا کہنا تھا کہ باراک اوباما کی خواہش ہے کہ وہ امریکہ  اور سعودیہ کے درمیان بعض اسٹراٹیجک مسائل اور اسکی روشنی میں  خطے کے حوالے سے سعودیہ کے کردار کے حوالے سے سعودی حکمران سے گفتگو کریں گےتاہم ملاقات کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران کا موضوع تمام دیگر موضوعات پر غالب رہا۔کہا جارہا ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما اور سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی ملاقات میں شامی اپوزیشن کو سیاسی اور فوجی اعتبار سے صدر بشار الاسد کے مقابل کھڑا کرنے کے طریقوں پربھی غور کیا گیا۔ سعودی عرب ایران کے ساتھ ہونے والے امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے جوہری مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ صدر اوباما نے شاہ عبداللہ کو کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ہونیوالے کسی برے معاہدے کو قبول نہیں کریگا۔ سعودی عرب کی خواہش رہی ہے کہ امریکہ شام کے باغیوں کے حوالے سے اپنی پوزیشن میں تبدیلی لائے اور انہیں زمین سے فضا میں داغے جانے والے میزائل فراہم کرے، تاہم امریکہ اس حوالے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ ماضی میں سعودی عرب کا ایران کے خلاف جنگ میں عراق کا ساتھ دینا، پھر کویت عراق جنگ میں عراق کے خلاف جنگ لڑنا، ، پاکستان میں طالبان کی آبیاری کرنا اور عراق ،لبنان  وغیرہ میں آج تک شدت پسندی میں ملوث تنظیموں کو سالانہ کروڑوں ڈالرز کے فنڈز فراہم کرنا اور اب شام کے حوالے سے ایران کے موقف کے مقابلے میں اسرائیلی موقف کا ساتھ دینا ایسے اقدامات ہیں جن سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہیں ۔برطانیہ سے شائع ہونے والے کثیرالاشاعت روزنامے "ڈیلی انڈیپینڈنٹ" نے فاش کیا ہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران سعودی عرب شام میں سرگرم حکومت مخالف تکفیری دہشت گردوں کے سب سے بڑے حامی ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب شام میں سرگرم تکفیری دہشت گردوں کی حمایت میں اس حد تک آگے چلا گیا ہے کہ اس کا یہ اقدام امریکہ کو بھی ناگوار گزرا ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں تناو پیدا ہو گیا ہےلہذا امریکی صدر بارک اوباما کے حالیہ دورہ سعودی عرب کو اس تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔آئیے سنتے ہیں کنیڈا میں مقیم معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر ظفر بنگش امریکی صدر کے دورہ سعودیہ پر کیا تبصرہ کررہے ہیں۔جیسا کہ عالم اسلام کے معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر ظفر بنگش نے اپنی گفتگو ميں اشارہ کیا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے حوالے سے جو خلیج پیدا ہوگئی ہے اسکا پر ہونا کوئی آسان امر نہیں ہے ۔امریکہ کے کسی بھی ملک سے تعلقات اسکے قومی مفادات کے گرد گھومتے ہیں اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کے سعودیہ سے کوئی خاص مفادات نہیں ہیں دوسری طرف سعودی حکام نے بھی اس بات کا ادراک کرلیا ہے کہ امریکہ اور یورپ اب انہیں پہلے جیسی اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے مغرب کی بجائے  مشرق کا رخ کرلیا ہے اور سعودی حکام کے ہندوستان اور پاکستان کے مسلسل دورہ جات بھی اسی سلسلے کی کڑیان نظر آتے ہیں۔خطے کی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین جانتے ہیں کہ سعودی عرب اس وقت کس پریشانی سے گزر رہا ہے۔ شام میں اس کی منشاء پوری نہیں ہوسکی اور شام پر فضائی حملے کا ارادہ امریکہ نے آخری مرحلے میں اس وقت منسوخ کر دیا جب اسے یقین ہوگیا کہ شام میں حکومت کی تبدیلی کے نتیجے میں انتہا پسند عناصر برسراقتدار آئیں گے، جو آخر کار خطے میں مزید انتہا پسندی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ امریکہ کے اس اقدام کی وجہ سے سعودی عرب اور امریکہ کے دیرینہ تعلقات متاثر ہوئے۔دوسری طرف اخوان المسلمین کے خلاف سعودی عرب  کے حالیہ اقدامات نے تو عالم عرب ہی میں نہیں بلکہ اس کے باہر بھی اس کی مخالفت کے دائرے کو وسیع کر دیا ہے۔......./169