20 مارچ 2014 - 20:30
یوکرین میں فوجی مداخلت نہیں کریں گے

امریکی صدر بارک اوباما نے یوکرین میں فوجی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے جزیرۂ نمائے کریمیا کے مسئلے پر روس اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگي کو سفارتی طریقے سے ختم کئے جانے پر تاکید کی ہے ۔

ابنا: واشنگٹن سے روئٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما نے این بی سی چینل کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ امریکا یوکرین میں کسی قسم کی فوجی مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتا، کرائمیا پر روسی گرفت کمزور کرنے کے لیے روس پر سفارتی دباوٴ بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر روس کے ساتھ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہوگی، یہ یوکرینی عوام خود بھی جانتے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ ميں امریکہ اور روس کے نمائندوں کے درمیان یوکرین کے بحران کے مسئلے پر نئی بحث چھڑگئی ہے ۔ کل بحران کے یوکرین کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آٹھویں اجلاس میں ، اس ادارے میں روسی  سفیر ویتالی چورکین اور ان کے امریکی ہم منصب کے درمیان لفظی تکرار ہوئی جس میں فریقین نے ایک دوسرے کو بحران یوکرین کے حوالے سے ہدف تنقید بنایا ۔ ادھر یوکرین کی حکومت نے بھی روس کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ جزیرۂ نمائےکریمیا کے روس سے ملحق ہونے کے سلسلے میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد یوکرین کی حکومت نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرنے اور یوکرین میں روسی عوام کے داخلے کے لئے ویزے کی پابندی جیسے منصوبوں کا اعلان کیا ہے ۔ یہ ایسے میں ہے کہ جب یوکرین کریمیا کو خود سے علیحدہ کرنے کی تیاری کررہا ہے ۔......./169