ابنا: واشنگٹن سے روئٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما نے این بی سی چینل کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ امریکا یوکرین میں کسی قسم کی فوجی مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتا، کرائمیا پر روسی گرفت کمزور کرنے کے لیے روس پر سفارتی دباوٴ بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر روس کے ساتھ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہوگی، یہ یوکرینی عوام خود بھی جانتے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ ميں امریکہ اور روس کے نمائندوں کے درمیان یوکرین کے بحران کے مسئلے پر نئی بحث چھڑگئی ہے ۔ کل بحران کے یوکرین کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آٹھویں اجلاس میں ، اس ادارے میں روسی سفیر ویتالی چورکین اور ان کے امریکی ہم منصب کے درمیان لفظی تکرار ہوئی جس میں فریقین نے ایک دوسرے کو بحران یوکرین کے حوالے سے ہدف تنقید بنایا ۔ ادھر یوکرین کی حکومت نے بھی روس کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ جزیرۂ نمائےکریمیا کے روس سے ملحق ہونے کے سلسلے میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد یوکرین کی حکومت نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرنے اور یوکرین میں روسی عوام کے داخلے کے لئے ویزے کی پابندی جیسے منصوبوں کا اعلان کیا ہے ۔ یہ ایسے میں ہے کہ جب یوکرین کریمیا کو خود سے علیحدہ کرنے کی تیاری کررہا ہے ۔......./169
20 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 514486
امریکی صدر بارک اوباما نے یوکرین میں فوجی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے جزیرۂ نمائے کریمیا کے مسئلے پر روس اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگي کو سفارتی طریقے سے ختم کئے جانے پر تاکید کی ہے ۔