ابنا: خبروں کے مطابق نئي حکومتي کميٹي آئندہ دو تين دن ميں تشکيل دے دي جائے گي جس کي ذمہ داري وفاقي وزيرداخلہ چودھري نثارعلي خان پر ہوگي- پاکستاني ذرائع کا کہنا ہے کہ کميٹي ميں آئي ايس آئي، وفاقي حکومت اور خيبرپختونخواہ حکومت کے نمائندے بھي شامل ہوں گے – پاکستاني ميڈيا رپورٹ کے مطابق نئي حکومتي کميٹي طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرے گي جبکہ آئندہ مذاکرات کسي خفيہ مقام پر انجام ديئے جانے کي بھي تجويز ہے –اس درميان موجودہ حکومتي کميٹي کوفيصلہ سازي کے مرحلےميں غير رسمي طور پر کام جاري رکھنے کو کہا گيا ہے-دوسري جانب حکومتي اور طالبان کميٹي کے مذاکراتي عمل کا جائزہ لينے کے لئے ناشتے کي ميز پر وزير اعظم نواز شريف کے ساتھ ہونے والي ملاقات کے بعد طالبان مذاکراتي کميٹي کے سربراہ مولانا سميع الحق نے کہا ہے کہ مذاکرات ايسے مقام پر پہنچ چکے ہيں کہ بااختيار حلقوں کي شموليت کے بغير آگے نہيں بڑھ سکتے-دوسري طرف طالبان کے ساتھ مذاکرات ميں فوج کو شامل کرنے کي حزب اختلاف کے رہنماؤں نے مخالفت کي ہے –قائد حزب اختلاف خورشيد شاہ نے کہا ہے کہ فوج کو طلبان کے ساتھ مذاکرات ميں شامل کرنا ستم ظريفي ہوگي –انہوں نے کہا کہ اگر فوج کو مذاکرات ميں شامل کيا گيا تو مذاکرات کي ناکامي کي صورت ميں بہت ہي خطرناک نتائج برآمد ہوں گے-مسلم ليگ قاف کے صدر چودھري شجاعت حسين نے بھي کہا ہے کہ حکومت کوئي فيصلہ نہيں کرپا رہي ہے کہ مذاکرات کرے يا آپريشن –انہوں نے اسي کے ساتھ کہا ہے کہ فوج کو مذاکرات ميں شامل کرنے کا خيال اچھا نہيں ہے-پاکستاني ميڈيا کے مطابق حزب اختلاف کي ديگر سياسي جماعتوں کے رہنماؤں نے بھي طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل ميں فوج کو شامل کئے جانے کي مخالفت کي ہے –......./169
5 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 511614
پاکستان ميں طالبان سے مذاکرات کے لئے حکومتي کميٹي تحليل کرنے کافيصلہ کيا گيا ہے -