اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حزب اللہ لبنان کے مجاہد عباس مصطفیٰ سلھب لبنان کے علاقے وادی البقاع کے رہنے والے تھے جو شام میں جہادی کاروائیوں کے دوران گزشتہ ہفتے تکفیریوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے۔انہوں نے شام کے شیعہ علاقوں کو تکفیریوں کے تشدد سے بچانے کے لیے کافی کامیابیاں حاصل کی۔ یہی کامیابیاں دشمنوں کے نزدیک کھٹک رہی تھی جن کی وجہ سے عباس مصطفیٰ سلھب ان کی آنکھوں کا کانٹا بنے ہوئے تھے۔

تکفیری ٹولوں نے انہیں شہید کرنے کے لیے کئی مرتبہ منصوبے بنائے جو ناکام ہو جاتے رہے آخر کار عباس مصطفیٰ سلھب گزشتہ ہفتے منگل کے روز اس وقت جام شہادت نوش کر گئے جب وہ فوجی گاڑی پر سوار ریما کے علاقے میں جا رہے تھے کہ تکفیریوں نے ان پر حملہ کر کے شہید کر دیا۔شہید کا جنازہ دوسرے روز بدھ کو لبنانی مقامات کی موجودگی میں ’’بریتال‘‘ کے علاقے میں تشییع کے بعد دفن کر دیاگیا۔مصطفیٰ سلھب جن کی کنیت ابو علی ہے اس شہید کے والد ہیں جنہوں نے ایک انوکھا کارنامہ انجام دے کر لبنانی میڈیا کی توجہ اپنی طور جذب کر لی۔

ابو علی اپنے بیٹے کی مجلس میں ایسے حال میں حاضر ہوئے کہ انہیں گویا کوئی غم نہیں ہے وہ خوشحال چہرے کے ساتھ ہنسے ہنستے حاضر مجلس ہوئے اور حاضرین مجلس کو بھی خوشی منانے کی تشویق کی۔انہوں نے اپنے بیٹے کی مجلس میں اعلان کر دیا کہ اس مجلس میں رونا منع ہے اس لیے کہ ہم عزادار نہیں ہیں کوئی بھی اظہار غم کا حق نہیں رکھتا۔مصطفیٰ سلھب نے مزید کہا کہ آج میرے بیٹے کی شادی کا دن ہے آج میں اپنے عباس کے لیے خوشی مناوں گا نہ غم۔عباس کے والد کی باتوں نے اس قدر حاضرین مجلس کو متاثر کیا کہ سب کی آنکھوں سے بے ساختہ اشکوں کے سیلاب جاری ہو گئے۔ لیکن ابوعلی کماکان مسکرا رہے تھے اور اپنے خوش حال چہرے کے ساتھ مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے۔درج ذیل تصاویر کمانڈر شہید عباس مصطفیٰ سلھب سے مربوط ہیں :





۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲