5 فروری 2014 - 20:30
صالحی: اسلامی فوبیا کا مقابلہ کیا جائے

ایران کے ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ بعض گروہ، انتہا پسندی اور اسلام کی جعلی روایات کا سہارا لے کر دنیا ميں اسلام فوبیا کو ہوا دے رہے ہیں اور ان سے مقابلہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔

ابنا: جناب علی اکبر صالحی نے کل رات تہران میں فلسطین کے سفیر کے ساتھ عشائیہ میں کہا کہ عالم اسلام میں عورتوں کے حقوق اور انتہا پسندی جیسے بہت سے مسائل موجود ہیں لیکن ان ميں سے بعض مسائل کو ترجیح حاصل ہے۔ ہماری اصلی اور اہم ترجیحات میں اس فاصلے کو کم کرنا ہے جو عالم اسلام پر تھوپا گيا ہے، یہ فاصلے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان باہمی اختلافات اور دوریاں ڈالنا ہیں۔ ہمیں ان فاصلوں اور دوریوں کو کم کرنا چاہئے کیوں کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں قوموں اور ملکوں کو نقصان پہنچےگا۔ جناب صالحی نے مزید کہا کہ ایران، سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات پر زور دیتا ہے اور اسے امید ہے کہ دونوں فریق، اعتماد کی بحالی کے لئے قدم اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں ایران ، ترکی اور سعودی عرب خاص اہمیت کے حامل ممالک ہیں اور ان کے درمیان تعاون بہت زیادہ اہم اور مفید ہے اور ہمارے باہمی اختلافات، ہمارے درمیان دوری کا سبب نہیں بننے چاہئیں اسلئے کہ ہم بہت سے مسائل میں اتفاق رائے کرسکتے ہیں۔

.......

/169