ابنا: وزیراعظم نوازشریف نے قومی اسمبلی میں دہشت گردی اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پالیسی بیان دے دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ہتھیار اٹھانے والوں کو مذاکرات کی دعوت دی تاہم بدقسمتی سے حکومت کی خیرخواہی کا مثبت جواب نہیں ملا۔امن کی جستجو میں سات ماہ تک لاشیں اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے اور اس نکتے پر ریاست کے تمام ادارے اور قوم بھی متفق ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ آج اس ایوان کے ذریعے مذاکراتی عمل کے لئے چار رکنی کمیٹی قائم کررہے ہیں جس میں ان کے خصوصی معاون عرفان صدیقی، رحیم اللہ یوسف زئی، میجر ریٹائرڈ اور سابق سفیررستم شاہ موہمند شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم ماضی کے تلخ تجربات کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔ تاہم دہشت گردی کی اس صورتحال کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ڈرون حملے رکوانے کیلئے جو کرسکتی ہے کررہی ہے۔ یہ ڈرون حملے حکومت تو نہیں کررہی ہے ان حملوں کی آڑ میں عوام کی جان و مال سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دوسری جانب پاکستانی وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے اپنے دورۂ واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملے جاری رہنے سے اس ملک کی مشکلات بڑھ گئي ہیں۔ اور ڈرون حملوں کے خلاف پاکستانی حکام اور سیاسی و مذہبی پارٹیوں نے اپنی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے اسے بند کئےجانے کا مطالبہ کیا ہے ۔
.......
/169