19 جنوری 2014 - 20:30
مرسی پر ایک اور مقدمہ عائد

فوجی حمایت یافتہ مصر کی عبوری حکومت کی جانب سے معزول صدر محمد مرسی پر مقدموں کی بوچھار جاری ہے۔

ابنا: مرسی سمیت چوبیس لبرل سرگرم کارکنوں پر عدلیہ کی توہین کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے، عبوری حکومت نے ان افراد کے خلاف عدلیہ کی توہین کے الزام میں فرد جرم عاید کردی ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

گذشتہ برس جولائی میں فوجی بغاوت کے ذریعہ سابق صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے معزول صدر پر قائم کیا جانے والا یہ چوتھا مقدمہ ہے۔

مرسی کے خلاف اس سے پہلے مختلف الزامات کے تحت تین مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ان میں اپنے مخالفین کو قتل کرنے کے لیے لوگوں کو اکسانے، غیر ملکی گروپوں کے ساتھ مل کر سازش کرنے اور جیل توڑنے کے الزامات پر مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ ان تینوں کیسوں میں انھیں موت کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

اب تک ان کے خلاف صرف 2011ء میں جیل توڑنے کے مقدمے کی سماعت ہی شروع ہوسکی ہے۔ یہ سماعت 28 جنوری کو دوبارہ ہوگی۔

ان کے علاوہ جن نمایاں روشن خیال ہستیوں کے خلاف فرد جرم عاید کی گئی ہے، ان میں پارلیمان کے سابق ارکان عمروحمزاوی اور مصطفیٰ النجار، انسانی حقوق کے علمبردار عامر سلیم، علا عبدالفتاح اور توفیق عکاشہ شامل ہیں۔ علا عبدالفتاح نومبر 2013ء سے گرفتار ہیں اور ان کے خلاف بغیر اجازت احتجاجی مظاہرے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

مصر میں فوجی بغاوت کے بعد فوج کی حمایت سے تشکیل پانے والی عبوری حکومت نے محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس کے کئی اعلیٰ رہنماؤں کو حراست جیلوں کی سلاحوں کے پیچھے دھکیلا جا چکا ہے، اور صرف اتنا ہی نہيں اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم بھی قرار دیا جا چکا ہے۔

.......

/169