ابنا: امریکی صدر نے یہ اپیل وائٹ ہاؤس میں اسپین کے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد کی۔ جبکہ کانگرس کے بعض ارکان، ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنا چاہتے ہیں۔دوسری جانب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران اور گروپ پانچ جمع کے درمیان ہونے والے معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کو غیر پرامن قرار دیا ہے۔ نیتن یاہو نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیل، ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن طریقے سے عمل کرے گا۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ ایرانی حکام نے بارہا تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل شفاف اور پرامن ہے اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے اپنے بارہا معائنوں کے بعد ہمیشہ اپنی رپوٹوں میں اس بات پر تاکید کی ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کا مشاہدہ نہیں کیا گيا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی ایسا ثبوت ملا ہے جس کی بنیاد پر یہ دعوی کیا جاسکے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کا مقصد ہتھیار بنانا ہے۔واضح رہے کہ صہیونی ریاست کے وزیر اعظم ایک ایسے وقت میں ایران پر ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں کہ جب خود ان کی ناجائز حکومت کے پاس سینکڑوں ایٹمی وارہیڈز موجود ہیں اور وہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ شمار ہوتے ہیں۔
.......
/169