ابنا: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ چیئرمین زید رائدالحسین نے کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاح اور اس کے ویٹو کے حق پر نظرثانی کی کوشش کریں گے۔ انھوں نے آج ایک پرس کانفرنس میں مستقبل کے حوالے سے سلامتی کونسل کے منصوبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس وقت اس بات کا رجحان کافی بڑھتا جارہا ہے کہ ویٹو کا حق، سلامتی کونسل کے مستقل رکن ملک کیلئے ایک خاص امتیاز کا حامل نہیں ہونا چاہیئے۔انھوں نے شام کے کیمیائی ہتھیار تلف کئے جانے کے عمل اور بیس جنوری کو فلسطین کی محوریت میں مشرق وسطی سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس کو اس کے ایجنڈے کے اہم موضوعات میں سے قرار دیا اور اردن و ترکی جیسے ملکوں کی جانب سے شام دہشتگردوں کی حمایت اور انھیں شام روانہ کئے جانے کے حوالے سے کہا کہ وہ سلامتی کونسل کے چیئرمین ملک اردن کے نمائندے کی حیثیت سے عام شہریوں کے قتل عام کی شدید مذمت اور سیاسی راہ حل کی حمایت کرتے ہیں۔واضح رہے کہ سیاسی راہ حل پر اردن کے اس نمائندے نے ایسی حالت میں اپنی حمایت پر تاکید کی ہے کہ اردن کی حکومت، اس وقت دہشتگردوں کی تربیت کے مرکز اور ان دہشتگردوں کو شام بھیجے جانے کا اصلی عامل بنی ہوئي ہے اور اردن کے ہزاروں سلفی دہشتگرد، اس وقت بھی شام میں حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔
.......
/169