ابنا: سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت مسلمین اور وائس آف شہداء کے زیراہتمام 5 جنوری کو ہونے والا کنونشن اب ڈی چوک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے منعقد ہوگا۔ چیئرمین کنونشن اسد نقوی نے کہا ہے کہ نواز شریف کی طالبان نواز حکومت نے شیعہ سنی اتحاد سے خوفزدہ ہو کر قومی امن کنونشن کا اجازت نامہ منسوخ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی اسلام آباد کے شیعہ سنی عوام کو کنونشن میں شرکت کی اوپن دعوت دی جاتی ہے۔ کنونشن میں شرکت کیلئے اب کسی دعوت نامہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ’’قومی امن کنونشن‘‘ کے چیئرمین نے مزید کہا کہ کسی بھی نقصان کی صورت میں ایف آئی آر نواز حکومت کیخلاف کٹوائی جائیگی۔ سپریم کورٹ فی الفور اس معاملے کا نوٹس لے، اس ملک میں دہشتگرد جو چاہیں کرسکتے ہیں لیکن پرامن شیعہ سنی عوام وطن عزیز کیخلاف ہونے والی سازشوں کیخلاف آواز بلند نہیں کرسکتے اور نہ ہی شہدائے پاکستان کا پروگرام منعقد کرسکتے ہیں۔دوسری طرف سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے اعلان کیا ہے کہ اتوار پانچ جنوری کو گیارہ بجے اسلام آباد میں قومی امن کنونشن ہر حال میں ہوگا۔ تمام حکومتی رکاوٹیں اور پابندیاں پاش پاش کر دیں گے۔ حکومت نے کنونشن کا اجازت نامہ منسوخ کرکے دہشت گردوں کو خوش کیا ہے۔ کنونشن میں رکاوٹ ڈالی گئی تو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ حکومت امن پسندوں کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔ امن کنونشن میں ملک بھر سے شہداء کے لواحقین شریک ہوں گے۔ ہم نے شہداء کے ورثاء کو متحد اور منظم کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہےیاد رہے ایم ڈبلیو ایم اور سنی اتحاد کونسل کے انتظامیہ سے تین روز سے جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے۔ ڈی سی اسلام آباد نے تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود رہنماؤں کو این او سی جاری کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجازت نامہ منسوخ ہونے کی وجہ سعودی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد ہے۔
.......
/169