3 جنوری 2014 - 20:30
صہیونی ریاست کی توسیع پسندی میں شدت

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے مشرق وسطی کے دورے کے موقع پر صہیونی ریاست کے جنگ پسندانہ اور توسیع پسندانہ اقدامات میں شدت پیدا ہوگئي ہے۔ اس سلسلے میں صیہونی حکام نے مغربی کنارے میں واقع درۂ اردن میں ایک صہیونی بستی کی تعمیر کا افتتاح کیا ہے۔

ابنا: صہیونی ریاست کے داخلی امور کے  وزیر جدعون ساعر نے کل نامہ نگاروں سے کہا کہ درّۂ اردن میں صہیونی فوجیوں کی موجودگی اور صیہونی بستیوں کی تعمیر سے اسرائیل محفوظ ہوجائے گا اور درّۂ اردن اسرائیل کا حصہ ہی رہے گا ۔ جدعون نے مزید کہا کہ صہیونی فوجیوں کو  درّۂ اردن میں ہمیشہ رہنا چاہئے ۔ فوجی موجودگي کے علاوہ ہمیں اس علاقے میں صہیونی بستی بھی تعمیرکا سلسلہ بھی جاری رکھنا چاہۓ۔صہیونی ریاست کے نائب وزیر خارجہ زئیب الکین نےبھی کہا ہے کہ پہلے سے طے شدہ ٹائم فریم ورک کے مطابق ہی امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اسرائیل میں داخلے کے دن صیہونی بستیوں کی تعمیر کا افتتاح کیا آگیا ہے۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ اقدامات میں پیدا شدہ شدت کے ساتھ ساتھ فلسطینی علاقوں میں اس حکومت کے جنگ پسندانہ اقدامات میں بھی شدت پیدا ہوئي ہے۔ اس سلسلے میں صہیونی ریاست نے غزہ کے علاقے کو اپنے فضائی حملوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ اس کے علاوہ صہیونی ریاست کے فوجی مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی اپنے تشدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔بہرحال حالیہ مہینوں کے دوران  ، کہ جب مشرق وسطی نام نہاد امن کے سلسلے میں امریکی ریاست کے اقدامات سامنے آرہے ہیں ، فلسطینیوں کے لۓ صہیونی ریاست کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے منفی نتائج ایک بار پھر ظاہر ہونا شروع ہوگۓ ہیں۔صہیونی بستیوں کی تعمیر کے باعث صہیونی ریاست اور فلسطین کی نام نہاد خود مختار انتظامیہ کے مذاکرات برسوں تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد جولائی سنہ دو ہزار تیرہ میں امریکہ کی ثالثی کے ساتھ ایک بار پھر شروع ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ دوعشروں سے زیادہ عرصے پر محیط سازباز مذاکرات کے تجربے کے بعد اب اس میں کوئي شک باقی نہیں رہ گيا ہے کہ اس طرح کی سازشوں کا نتیجہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کی توسیع پسندی اور اس کے غاصبانہ قبضے کی تقویت کے سوا کچھ اور برآمد نہیں ہوا ہے۔مشرق وسطی میں سازباز عمل کے سلسلے میں امریکہ اور یورپی ممالک کے سازشی رویۓ کے خلاف حتی ان حکومتوں کے ساتھ تعاون کرنے والی نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ  کے حکام نے بھی اعتراض کیا ہے۔ اس سلسلے میں خود مختار فلسطینی انتظامیہ کے وزیر خارجہ ریاض مالکی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مقبوضہ فلسطین کے دورے کے موقع پر تحریر شدہ تجویز پیش نہیں کرتے ہیں۔  ریاض مالکی نے کل کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری جو تجاویز بھی اسرائیلی حکام اور خود مختار فلسطینی حکام کو پیش کریں گے وہ تحریری نہیں ہوں گي۔تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن تیسیر الخالد نے بھی جان کیری کی سازباز معاہدے سے متعلق کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جان کیری کی تجویز غیر مفید اور مبہم ہے۔ فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی  پر مبنی امریکی اقدامات کے خلاف فلسطینیوں نے  اپنی نفرت کا اظہار کیا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورۂ مقبوضہ فلسطین کے موقع پر فلسطینیوں نے جو وسیع پیمانے پر مظاہرے کۓ ہیں ان کا اسی تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہۓ۔

.....

/169