اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ پاکستان کے بزرگ عالم دین علامہ جواد نقوی نے کراچی میں جمعہ کے خطبوں کے دوران ماہ عزا کے اختتام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایام عزاء گزرے ہیں اور مومنین آہستہ آہستہ محرم وداع کررہیے ہیں یہ بھی چونکہ سنت بن گئی ہے کہ ہم محرم کے آنے سے شروع کرتے ہیں اور چہلم کے بعد ختم کردیتے ہیں۔انہوں نے کہا: یہ وہ بارگاہیں نہیں ہیں جن سے وداع ہونا ہے ہمیں دائماً انکی بارگاہ میں رہنا ہے ایسا نہیں ہے کہ رمضان میں قرآن پڑھیں اور آخری ایام میں رمضان کے ہم قرآن ختم کرکے بند کردیں۔ نہ عزیزان قرآن سے انسان ایک لمحہ کے لیے بھی جدا ہوتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتاہے۔ مومنین یہ تعلق قائم رہے عزاداری کا اب اگلا مہنہ ربیع الاوّل کا ہے اور ربیع الاوّل ایک فرصت ہے جسطرح محرم آتا ہے مومنین عزا کی تیاری کرتے ہیں اور دشمنان عزا فتنوں کی تیاری کرتے ہیں کیونکہ زمانہ فتنوں کا ہے اور ہمارا ملک فتنوں کی لپیٹ میں ہے ان فتنوں کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے فتنوں کے ختم کرنے کے سلسلے میں امیر المومنین (ع) کی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام نہج بلاغہ میں فرماتے ہیں کہ " فتنوں کا جواب یہ نہیں کہ آپ فتنوں کو دودھ پلائو بلکہ آگاہی حاصل کرو اور انہیں ناکام بنائو "۔جامعہ عروۃ الوثقی کے سربراہ نے ربیع الاول کو وحدت اور اتحاد کا مہینہ گردانتے ہوئے کہا: اس دفعہ زیادہ کوشش کی گئی ہے فتنوں کو بھڑکانے کی عاشور کے واقعات کی وجہ سے ان سب کو ناکام بنایا جا سکتا ہے ان ایام کی وجہ سے استفادہ کرکے مومنین آپس میں بھی اور باقی مسلمین کے ساتھ بھی اُنکی محافل میں شرکت کرکے جو غلط فہمیاں تشیع کے خلاف پھیلادی گئی ہیں خصوصاً ایسے ٹی وی چینلز کے ذریعے جنکا کام فقط غلیظ پروپیگینڈا کرکے غلط فہمیاں پھیلانا ہے ہم نے انکو دور کرنا ہے اور تجربہ کرکے دیکھ لیں دور ہوجاتی ہیں چہ بسا ایک عالم دین سے بہتر آپ کرسکتے ہیں کیونکہ آپ ہر وقت آپ اُن کے ساتھ رہتے ہیں۔ علامہ جواد نقوی نے شیعوں کے خلاف عالمی پروپیگنڈوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عزیزان اس وقت تشیع کے اوپر ایک بہت واضح جنگ ٹھوس دی گئی ہے ۔آپ نے فرد فرد نے دفاع کرنا ہے اس جنگ کا کیونکہ علماء منبروں سے ذکر بھی کریں گے تو سنتا کوئی نہیں ہے آپ لوگ ہر وقت لوگوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ گھر گھر میں مجالس برپا کریں۔ اور ابھی جو حالات ہیں پاکستان میں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جو جنگ اُسکا رخ تشیع کی طرف کیا ہوا ہے اور بعض عربی ہیں جو اپنی نادانی اور جہالت کی وجہ سے امریکہ کو بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ نے لبنان اور سوریا پر حملہ نہ کیا تو ہم خود کردیں گے یعنی اس قدر کینہ و نفرت انکے دلوں میں بھرا ہوا ہے اور اس کا ہدف فقط شیعہ ہے۔ اس قدر شدت کے ساتھ شیعہ سے دشمنی کیوں ہے۔ جنگ احزاب ہوئی کہ لوگ حجاز سے مدینہ کے اندر آئے اور انہوں نے جنگ احزاب دین کے خلاف لڑی تو خدا نے اُنہیں شکست دی آج بھی شام کے اندر عربی و غربی محاز بناکر جنگ کررہے ہیں لیکن خدا اب بھی شکست دے گا اُنہیں مومنین کی مقاومت اور ہمت سے دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
29 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 490750
پاکستان کے نامور عالم دین علامہ سید جواد نقوی نے جمعہ کے روز کراچی میں نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران ملک میں موجود فتنہ و فساد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فتنوں کو دیکھ کر خاموشی اختیار کرنا مسلمانی نہیں ہے بلکہ فتنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور انہیں ملک سے ختم کرنا مسلمان کا فریضہ ہے۔