ابنا: وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارني نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اور کي ايف کے درميان ہونے والا سمجھوتہ مظاہرين کي پريشانيوں کو برطرف اور ان کے مطالبات کوپورا نہيں کرسکتا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اپنے مداخلت پسندانہ بيان ميں يوکرين کي حکومت سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے شہريوں کے مطالبات کو سنے اور کوئي ايسا راستہ تلاش کرکے جو يوکرين کو يورپ کي طرف لے جائے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ يوکرين کي حکومت کو چاہئے کہ وہ کوئي پرامن ، صحيح اور جمہوري راستہ تلاش کرے جس کے لئے يوکرين کے عوام سڑکوں پر اترے ہيں۔ واضح رہے کہ روس کے صدر ولاديمير پوتين نےيوکرين کے صدر يانکويچ سے ماسکو ميں اپني ملاقات ميں اعلان کيا ہے کہ روس يوکرين کي سرکاري کمپنيوں ميں پندرہ ارب ڈالر کي سرمايہ کاري کرے گا اور يوکرين کو جو گيس فروخت کررہا ہے اس کي قيمت ايک تہائي کم کردے گا۔روسي صدر نے اسي طرح يہ بھي اعلان کيا ہے کہ ماسکو کے زير قيادت کسٹم يونين ميں يوکرين کي شموليت کا مسئلہ جس سے يوکرين کي حکومت کے مخالف خائف ہيں اس ملاقات ميں نہيں اٹھايا گيا ہے۔
.......
/169