سید الشہداء امام حسین علیہ السلام پر گریہ اور عزاداری کی فضیلت کے بارے میں بہت زیادہ احادیث اور روایات موجود ہیں جن میں ائمہ معصومین علیھم السلام کی جانب سے امام حسین علیہ السلام کی عزاداری پر خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر امام حسین علیہ السلام پر گریہ و عزاداری کرنے پر اس قدر تاکید کیوں کی گئی ہے؟ عزاداری کا فلسفہ کیا ہے؟ اس عزاداری اور گریہ کے کیا آثار اور برکات ہیں؟ اس تحریر میں دو ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی اور آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی کی چند کتابوں کی مدد سے ان سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
1. واقعہ کربلا کی یاد منانے اور اسے زندہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟
ہر معاشرے کے گذشتہ واقعات اور حادثات اس معاشرے کے مستقبل اور اس کی تقدیر پر عظیم اثرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ ایسے واقعات کی یاددہانی کروانا درحقیقت ایک طرح سے ان کو زندہ رکھنے اور ان پر نظرثانی کرنے کے مترادف ہوتا ہے تاکہ اس معاشرے میں موجود افراد ان واقعات کی برکات سے فیض یاب ہو سکیں۔ اگر ماضی میں انجام پانے والا یہ واقعہ ایک مفید واقعہ تھا جس نے اپنے زمانے میں انتہائی بابرکت اور مفید اثرات ڈالے تھے تو ان کی یاد منانے اور انہیں انسانوں کے ذہن میں زندہ کرنے سے ان بابرکت اثرات سے فیض یاب ہوا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ہر انسانی معاشرے میں ماضی کے واقعات کی یاد کو کسی نہ کسی طرح زندہ رکھنے اور انہیں اہمیت دیتے ہوئے ان کیلئے ایک خاص احترام کا قائل ہونے کا رواج موجود ہے۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ماضی کے یہ واقعات ایسی اہم شخصیات سے متعلق ہوں جنہوں نے اپنے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہو جیسا کہ معروف سائنسدانوں اور موجد حضرات کی یاد کو زندہ رکھا جاتا ہے، یا ماضی کے یہ واقعات ایسے افراد سے متعلق ہوں جنہوں نے سیاسی اور معاشرتی جدوجہد کے ذریعے اپنی قوم کی آزادی اور خودمختاری میں اہم کردار ادا کیا ہو جیسا کہ مختلف ممالک میں قومی ہیروز کی یاد کو زندہ رکھا جاتا ہے۔
دنیا کے تمام عقلمند حضرات ایسے عظیم افراد اور شخصیات کی یاد کو زندہ رکھنے کیلئے مخصوص پروگرامز کے انعقاد کو جائز اور مفید قرار دیتے ہیں۔ یہ اقدامات اس مقدس فطری تقاضے کے عین مطابق ہیں جنہیں خداوند متعال نے انسانی سرشت میں قرار دیا ہے اور اسے "احسان مندی کا احساس" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہر انسان فطری طور پر اپنے محسنوں کی یاد کو زندہ رکھنے کا نہ صرف خواہش مند ہوتا ہے بلکہ اسے اپنا عقلی و شرعی وظیفہ بھی جانتا ہے۔ لہذا یہ تمام انسانوں کا فطری تقاضہ ہے کہ ایسی شخصیات جنہوں نے ان کی خدمت کی ہے کا شکریہ ادا کریں، ان کی یاد کو تازہ رکھیں اور انہیں احترام کی نظر سے دیکھیں۔ اس کے علاوہ اگر ماضی کا وہ واقعہ انسانی معاشرے کی سعادت اور فلاح و بہبود میں انتہائی موثر واقع ہوا ہو تو اس کی یاد کو زندہ رکھنے کا ایک اور جواز سامنے آتا ہے، وہ یہ کہ ایسے واقعے کی یاددہانی انسانی معاشرے کی سعادت اور فلاح و بہبود کیلئے مزید موثر ثابت ہو سکتی ہے اور اس کی یاد کو زندہ رکھنا گویا اس واقعے کے دوبارہ انجام پانے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
چونکہ ہمارا پختہ عقیدہ ہے کہ عاشورا کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ ہے اور مسلمانوں کی سعادت اور ان کیلئے ہدایت کے راستے کی نشاندہی کرنے میں یہ واقعہ انتہائی اہم اور بنیادی کردار کا حامل ہے لہذا ہماری نظر میں یہ واقعہ انتہائی باارزش اور گرانبہا ہے۔ چنانچہ اس واقعے کی یاد کو تازہ کرنا، اسے اہمیت اور احترام دینا اور اس کے چھپے ہوئے پہلووں پر روشنی ڈالنا اس بات کا باعث بنتا ہے کہ آج کا انسانی معاشرہ بھی اس بابرکت واقعے کی برکتوں اور نورانیت سے فیض یاب ہو سکے۔ وہ نکتہ جس پر تمام دوستوں اور دشمنوں کا اتفاق ہے یہ ہے کہ کربلا کا واقعہ اگر انسانی تاریخ کا یگانہ اور بے مثال واقعہ نہ بھی ہو تو کم از کم ایک کم نظیر واقعہ ضرور ہے۔
البتہ ائمہ معصومین علیھم السلام کی جانب سے پہنچنے والی روایات کی روشنی میں ہمارے نزدیک کربلا کے واقعہ کی کوئی مثال نہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ عاشورا جیسا واقعہ نہ ماضی میں رونما ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں رونما ہو سکتا ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے مدمقابل افراد اس حقیقت کو صحیح طور پر درک کرنے کے قابل نہیں اور ہم ان کے ساتھ زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتے لہذا ہم کہتے ہیں کہ انسانی تاریخ کے تمام ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پوری تاریخ میں کربلا جیسا واقعہ اگر بے مثال نہ ہو تو کم از کم نادر اور کم نظیر ضرور ہے۔ کربلا کا واقعہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ہر لحاظ سے کم نظیر ہے۔ جس طرح سے یہ واقعہ رونما ہوا، جتنے عظیم اور ناقابل تصور مصائب اور مشکلات کا سامنا اہلبیت اطہار علیھم السلام کو کرنا پڑا اور اسی طرح جس طرح سے یہ واقعہ تاریخ میں زندہ اور جاودان رہا اور حتی اہلبیت اطہار علیھم السلام کی دشمنی رکھنے والے اموی حکمرانوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود بھی سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی یاد اور آپ کا روضہ مبارک لوگوں کے دلوں اور نظروں سے محو نہ سکے، ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ کربلا جیسے واقعے کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک میں ہر سال ایام محرم میں کربلا کے واقعے اور امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی عزاداری کا سلسلہ جو صدیوں سے جاری و ساری ہے، بذات خود ایک معجزے سے کم نہیں۔ دنیا میں انسانی تاریخ کے دوران کتنے ہی ایسے بے شمار واقعات انجام پائے ہیں جن میں بیگناہ معصوم انسانوں کا خون بہایا گیا ہے لیکن کون سا ایسا واقعہ ہے جس کی یاد ہر سال دنیا بھر میں واقعہ کربلا جیسی منائی جاتی ہو؟ یہ امر بذات خود غافل انسانوں کو جگانے اور ان کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ واقعہ کربلا ایک ایسا واقعہ ہے جس کیلئے دنیا بھر میں ہر سال کھربوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں اور کوئی کسی کو مجبور بھی نہیں کرتا بلکہ سب اپنی دلی خوشی سے یہ اخراجات انجام دیتے ہیں، غم حسین علیہ السلام میں ہر سال کس قدر آنسو بہائے جاتے ہیں، کتنے سینے چاک ہوتے ہیں؟ آیا دنیا میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟
یہ عزاداری اور ماتم کسی ایک ملک کے ساتھ مخصوص بھی نہیں۔ دنیا کے ہر کونے میں محرم اور صفر کے مہینوں خاص طور پر 10 محرم عاشورا کے دن صف عزا بچھ جاتی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں ہر سال عاشورا کے دن پاکستانی، ایرانی، عراقی، لبنانی اور بعض دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے شیعیان حیدر کرار کی جانب سے ماتمی جلوس نکالا جاتا ہے اور دنیا کے تمام انسانوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لیتا ہے۔ اس شہر کی سب سے بڑی سڑکیں عزاداروں سے بھر جاتی ہیں۔ حتی سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کیلئے عزاداری کا سلسلہ صرف شیعہ مسلمانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا کے ایسے ممالک میں بھی جہاں سنی مسلمان بھائیوں کی اکثریت ہے غم حسین علیہ السلام انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور بڑی تعداد میں سنی بھائی بھی اس میں شریک ہوتے ہیں۔ بعض اوقات تو خود سنی مسلمان بھائی اپنے طور پر امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے پروگرامز منعقد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں اہلسنت برادران بڑی تعداد میں شیعہ افراد کے ساتھ مل کر مجالس حسین علیہ السلام کا بندوبست کرتے ہیں اور ان مجالس میں شرکت کو اجر رسالت کی ادائیگی کے طور پر اپنے اوپر واجب سمجھتے ہیں۔
بلکہ بعض ایسے ممالک بھی ہیں جہاں غیرمسلمان حضرات بھی انتہائی عقیدت اور احترام سے مجالس غم حسین علیہ السلام میں شرکت کرتے ہیں اور اسے اپنے لئے برکت کا باعث قرار دیتے ہیں۔ انڈیا میں ہندووں اور سکھوں کی جانب سے سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی مجالس میں نذورات کا سلسلہ معروف ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو دنیا بھر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ لہذا دنیا میں واقعہ کربلا کے علاوہ کوئی اور ایسا واقعہ نہیں ملے گا جس کا اثر عاشورا جیسا ہو اور اس نے مختلف قوموں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے سے متاثر کیا ہے۔ یہ سب باتیں ایک طرف اور شیعیان حیدر کرار کی جانب سے کربلا اور امام حسین علیہ السلام کی یاد اور عزاداری کو زندہ رکھنے کیلئے دی جانے والی قربانیاں ایک طرف۔ تاریخ کو اٹھا کر دیکھیں کہ شیعیان اہلبیت اطہار علیھم السلام نے اس راستے میں کیا کچھ قربان نہیں کیا؟ دنیا کے مختلف ممالک میں اب تک اہلبیت علیھم السلام سے اظہار عقیدت اور کربلا کی یاد کو زندہ رکھنے کے جرم میں شیعہ بچوں، خواتین، جوانوں اور بوڑھوں کو بم دھماکوں سے اڑایا جاتا ہے، ان کے گلے کاٹے جاتے ہیں اور ان کے عزیزوں کو چن چن کر قتل کیا جاتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود ہر سال عاشورا 10 محرام اور چہلم 10 صفر کے دن لاکھوں بلکہ کروڑوں عقیدت مند افراد پیدل چل کر امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک پر پہنچتے ہیں اور ان کا غم مناتے ہیں۔
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ روضہ مبارک امام حسین علیہ السلام کی زیارت ہمیشہ آج کی طرح آسانی اور سہولت سے انجام نہیں پاتی تھی۔ البتہ آج بھی زیارت کربلا اتنی آسان نہیں۔ لیکن ایسا زمانہ بھی گزرا ہے جب اگر کوئی شخص سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک کی زیارت کیلئے جانا چاہتا تھا تو اسے اپنی جان پر کھیلنا پڑتا تھا۔ کیونکہ بنی عباس کے دور حکومت خاص طور پر متوکل کے زمانے میں کربلا کی زیارت پر سختی سے پابندی عائد کر دی گئی تھی اور جو شخص بھی روضہ مبارک امام حسین علیہ السلام کے نزدیک جاتا اسے قتل کر دیا جاتا۔ حتی نوبت یہاں تک پہنچی کہ متوکل عباسی نے کئی بار قبر مبارک امام حسین علیہ السلام کو مسمار کروا کر وہاں ہل چلوا دیئے۔ وہ چاہتا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک کا نشان تک مٹا دے۔ لیکن شیعیان حیدر کرار نے روضہ مبارک امام حسین علیہ السلام کی زیارت کیلئے اپنے ہاتھ تک کٹوا دیئے، اپنے پاوں کٹوائے حتی اپنی جان قربان کی۔ صرف اس لئے کہ نزدیک جا کر امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں سلام عرض کر سکیں۔ یقینا ان واقعات کی مثال انسانی تاریخ میں ملنا ناممکن ہے۔ اگر کہا بھی جائے کہ دوسرے پہلووں میں واقعہ کربلا اور دوسرے واقعات میں کچھ حد تک شباہت پائی جاتی ہے تو اس پہلو میں کوئی واقعہ کربلا کے واقعے سے نہیں ملتا۔
2. واقعہ کربلا کی یاد زندہ رکھنے کیلئے کیوں صرف گفتگو اور بحث پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا؟
یہ بات صحیح ہے کہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام اور واقعہ کربلا کے بارے میں بحث و گفتگو، گروپ ڈسکشنز، کانفرنسز، تقریروں کا انعقاد، مقالہ نویسی وغیرہ جیسی ثقافتی، علمی اور تحقیقاتی سرگرمیاں بہت مفید اور ضروری ہیں اور یہ کام ہمارے معاشرے میں انجام بھی پا رہے ہیں بلکہ امام حسین علیہ السلام کی شخصیت اور عزاداری کی برکت سے ان کے بارے میں بڑے پیمانے