اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے مسئلے میں امریکہ اور آل سعود کے درمیان شدید اختلافات کو حل کرنے کے لئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ریاض کا دورہ کیا اور انہیں شام کے حوالے سے دلاسہ دیا اور کہا کہ وہ جنیوا 2 کانفرنس کے ذریعے سعودی اہداف کے حصول کی کوشش کررہے ہیں۔ جس پر شام کے وزیر اطلاعات عمران الزعبی نے شدید رد عمل ظاہر کیا: <شام کا انتباہ؛ دباؤ کی صورت میں جنیوا 2 میں شرکت نہیں کریں گے>CLICKاس حقیقت کے لئے کسی دلیل اور ثبوت کی ضرورت نہيں ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کی صدائے بازگشت کے طور پر شام کے مخالفین کا حامی نمبر 1 ہے اور اس وقت دہشت گردوں کے اہم ترین غیر ملکی حامی سعودی حکمران ہیں جو نہ صرف سعودی دہشت گردوں کی بڑی تعداد کو اردن اور ترکی کے راستے شام میں داخل کررہے ہیں بلکہ وسطی ایشیا، پاکستان اور افغانستان سے بھی ہزاروں دہشت گردوں کو شام میں منتقل کرچکے ہیں اور اب تک شامی افواج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سینکڑوں دہشت گردوں کی لاشیں وصول کرچکے ہیں اور سعودی حکومت نے باضابطہ طور پر اعلان بھی کیا ہے اور اس کی سفارتکاری سے بھی ظاہر ہے کہ وہ شام میں دہشت گردوں کی حمایت کررہی ہے اور انہیں مالی اور عسکری امداد فراہم کررہی ہے۔ سعودی حکومت کبھی بھی سفارتکاری کے میدان میں اتنی فعال اور سرگرم نہ تھی جتنی کہ وہ آج ہے لیکن عجب ہے کہ اس کی سفارتکاری کا واحد مقصد صہیونی ریاست کا تحفظ اور شام کو تباہ کرنا ہے اور بات یہاں تک پہنچی ہے کہ سعودی حکمران جو کسی طور بھی غزہ اور فلسطین کی آزادی کے لئے تیل کی برآمدات بند یا محدود کرنے کے لئے تیار نہیں ہورہے تھے آج اسرائیل کے تحفظ کے لئے امریکیوں کو اپنی تیل کی برآمدات محدود کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ شام میں اب تک ہزاروں سعودی دہشت گرد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں سینکڑوں کی لاشیں سعودی حکومت کے سپرد کی گئی ہيں جبکہ ہزاروں افراد ان اجتماعی قبروں میں دفنا دیئے گئے ہیں جن میں دہشت گرد تنظیمیں اپنے ہالکین کو دفنایا کرتے ہیں۔ قبل ازیں آل سعود نے ہزاروں فوجیوں اور مجاہد کہلانے والے وہابیوں کو بحرین کے مجمع الجزائر میں منتقل کیا ہے تا کہ آل خلیفہ استبدادیت کے خلاف احتجاج کرنے والے انقلابی اور مظلوم عوام کو کچل سکیں اور یہ سعودی جلاد بحرین پر بدستور قابض ہیں اور بہت سوں کو آل خلیفہ حکومت نے بحرینی شہریت بھی دی ہے۔ سعودی وزیر خارجہ ـ جو علالت کی وجہ سے بمشکل اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے تھے اور ان کا بدن علالت کی وجہ سے کانپ رہا تھا اور بولنے میں بھی انہيں دشواری ہورہی تھی ـ نے جان کیری کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا ایران نے شام پر قبضہ کرلیا ہے اور ایران کو اپنی فوجیں شام سے واپس بلانی چاہئیں! جو درحقیقت شام کے نظام حکومت کو گرانے میں آل سعود کی ناکامی کا رد عمل اور اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ علاقے میں صہیونی ـ وہابی محاذ کے خلاف اسلامی مزاحمت ایک بار پھر فاتح میدان ہے اور وہابی و صہیونی فورسز کی تکفیری نیز سیکولر دہشت گرد فورسز کو عظیم ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کئی ہفتوں سے سعودی انٹیلجنس چیف بندر بن سلطان اور سعود الفیصل کی طرف سے متعدد بار امریکیوں کو دھمکی آمیز پیغامات بھجوانے اور امریکی مرضی کےخلاف تکفیری اور سلفی دہشت گردی کو مزید تقویت پہنچانے جیسے اقدامات کے باوجودسعودی وزير خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان اختلاف طریقہ کار کا اختلاف ورنہ حقیقت میں یہ دونوں متحد ہیں؛ دونوں شام میں جنگ کے خاتمے اور عبوری حکومت کی تشکیل چاہتے ہیں؛ دونوں مطمئن ہونا چآہتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا! اور یہ ممنوعیت حقیقی ہوگی! ہم دونوں چاہتے ہیں کہ علاقہ وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے خالی ہو اور ہم امریکہ کی اس یقین دہانی کو قبول کرتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا!یاد رہے کہ بندر بن سلطان نے کچھ روز قبل یورپی سفارتکاروں سے کہا تھا یہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ تعلقات کی سطح کم کرنے، تیل کی پیداوار اور برآمدات کم کرنے اور امریکہ کے بجائے متبادل دوست ملک تلاش کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے جس سے معلوم ہورہا تھا کہ سعودی ـ امریکی اختلافات کے اسباب شام کے مسائل کے علاوہ اور بھی ہیں جو ابھی تک ذرائع ابلاغ کی زینت نہیں بن سکے ہیں اور جن کا تعلق سعودی خاندان کے اندر اقتدار کی کشمکش سے ہوسکتا ہے! سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کے لئے جنیوا 2 کانفرنس کے انعقاد کے بارے میں کہا کہ یہ کانفرنس شام حکومت کے مخالفین کی عدم موجودگی میں منعقد نہیں ہوسکتی حالانکہ سعودی عرب نے جنیوا 2 کانفرنس کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے شام کو تو کیا، لبنان کو بھی نہیں بخشا اور لبنان کے شہر طرابلس کو کئی دنوں تک آگ و خون سے دوچار کیا۔ جان کیری نے بھی سعودیوں کی مزید تشفی کے لئے دعوی کیا کہ شام کے بحران کے آنے والے مرحلے میں صدر بشار الاسد کا کوئی کردار نہ ہوگا؛ اور واشنگٹن ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دےگا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
دہشت گردی کاخاتمہ جنیوا 2 کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے/ جنگ کا فیصلہ میدان میں ہوگا
غیرملکی مزدوروں کی گرفتاریاں بدستور جاری
تکفیری جہنم کے کتے ہیں/ سعودی حکام دہشت گرد پال رہے ہیں/اخبار