3 نومبر 2013 - 20:30
محرم الحرام کی پہلی شب

نہ جانے کیا راز ہے کہ ماہ محرم سال کا پہلا مہینہ ہے، شاید راز یہ ہو کہ عزت و عظمت، قیام و جہاد کی گروی ہے اور زندگی صرف خون کے سائے میں بامعنی ہوجاتی ہے۔

 آغازمحرم ماہ عزاسیدالشہداء امام حسین علیہ السلام۔ وہ ہادی بر حق ۔۔۔۔۔ جس نے آخری سانس تک دین کا پیغام سنایا !۔ وہ قاری قرآن ۔۔۔۔۔ جس نے نوک نیزہ پر بھی تلاوت کی !۔ وہ محافظ حرم ۔۔۔۔۔ جس نے حرمت کعبہ کے لئے حج کو عمرہ سے تبدیل کردیا !۔ وہ پاسبان شریعت ۔۔۔۔۔ جس نے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے وطن عزیز کو ترک کردیا !۔ وہ مجاہد فی سبیل اللہ ۔۔۔۔۔ جس نے تین دن کی بھوک اور پیاس میں جہاد کیا !۔ وہ ذمہ داراسلام ۔۔۔۔۔ جس نے بقائے دین کے لئے بھرا گھرلٹا دیا!۔ وہ عبادت شعار ۔۔۔۔۔ جس نے برستے تیروں میں نماز ادا کی !۔ وہ سجدہ گزار ۔۔۔۔۔ جس نے زیر خنجرستم سجدہ ادا کیا !۔ وہ مساوات کا علمبردار ۔۔۔۔۔ جس نے جون کا سر اپنے زانو پر رکھا !۔ وہ صاحب ایثار ۔۔۔۔۔ جس نے راہ حق میں طفل شیر خوار کو بھی قربان کردیا !۔ وہ راکب دوش رسول ۖ ۔۔۔۔۔ جس کی خاطر مرسل اعظم ۖ  ناقہ بنے !۔ وہ حافظ فروع و اصول ۔۔۔۔۔ جس نے پشت پیغمبرۖ پر آکر سجدہ کو طولانی بنادیا !۔ وہ وارث خلق عظیم ۔۔۔۔۔۔ جس نے بیگانوں کو بھی سیروسیراب کیا !۔ وہ مولائے رحیم و کریم ۔۔۔۔۔ جس نے حر کی خطا کو معاف کرکے اسے حقیقی حر بنادیا !

محرم آیا؛ التہاب و تپَش سے خاکستری اور دھُندلا رنگ لئے ہوئے آسمان کے آفاق سے.بلوغ کا سرخ مہینہ؛ جس میں عشق نے جنم لیا اور مردانگی و شرف و عطش (پیاس) نے معانی پائے۔ایسا مہینہ جس میں رونما ہونے والا بے ساحل کے یمِ غم کی کسی بھی لفظ میں گنجائش نہیں؛ ایسا مہینہ جو ہرسال خون خدا (ثاراللہ) کو آسمانوں کی جانب بکھیرتا ہے تا کہ زمانوں کے بادل آفتاب کی سرخی کو نہ چھپا سکیں۔ محرم، فریاد کا مہینہ، بیداری اور پائیداری کا مہینہ، ایسا مہینہ جس کے ایک نصف یوم نے پوری تاریخ کو اپنا مقروض و مرہون بنالیا۔ایسا مہینہ جو خاک و خون، آگ و پیاس، مشک و تیر، اس کے سربمہر اَسرار ہیں۔ اسی مہینے نازل ہوئیں 72 سرخ آیتیں دلوں کے صحیفی پر اور 72 کہکشانیں عالم وجود کے مدار میں قرار پائیں۔اسی مہینے ہاتھ گرے تو پر نکلے یہی مہینہ ہے جو ہرسال منتظر رہتا ہے میرا، آپ کا۔محرم، خوبیوں اور نیکیوں سے محرمیت کا موسم ہے فرات کے کنارے اگنے والے ہاتھ ملنے کا موسم ہے؛ عاشقی کا موسم.برسہا برس سے محرم سیاہ پوش ہے اور سینے سب سوگ و عزا سے جوش و خروش سے مالامال۔برسہا برس سے کربلا ہمارے ٹھنڈے ایام کو حرارت بخشتا ہے اور ہماری تاریک راتوں پر نور و روشنی برساتا ہے۔ کون ہے وہ جو حُر (اور آزادی پسند) ہو اور محرم کو سوگواری نہ کرے؟کون ہے وہ جو اشکوں کی سواری پر بیٹھ کر عاشورا والوں کی ضیافت میں داخل ہو اور عاشق بن کر نہ لوٹے؟کون ہے وہ جو سفینۂ نجات میں داخل ہو اور پھر بھی ہوس کی لہروں میں ڈوب جائے؟کون ہے وہ جو حسین کو اپنے راستے کا چراغ قرار دے اور پیچ و خم سے بھرپور بھول بہلیوں میں کھو جائے؟کون ہے وہ جو اپنی جان کو مجسم سماعت قرار دے مگر فرات کے اضطراب اور ہنگاموں سے تیرا نام نہ سنے؟نہ جانے کیا راز ہے کہ ماہ محرم سال کا پہلا مہینہ ہے، شاید راز یہ ہو کہ عزت و عظمت، قیام و جہاد کی گروی ہے اور زندگی صرف خون کے سائے میں بامعنی ہوجاتی ہے۔

اے محرم! تو خلق خدا کا وہ خونی غم و غصہ ہے جو شہیدوں کے سرخ اور پاک گلے سے برآمد ہوا اور ان تما ستم زدہ انسانوں کے کے گلے میں گریہ و بکاء کی صورت میں اترا وہی جو کربلا میں ایک نصف روز کے دوران پھٹ پڑا خونِ دیدہ و دل میں، جو ستم کے کینہ پرور خنجر نے تپتی زمین پر گرایا وہی جو سیاہی اور ظلمات کے زمانوں میں چمک اٹھا سن لو ۔۔۔ اے محرم! تو برسوں کا گِرَہ دار اور لپٹا ہوا غصہ ہے، تو آتشفشان ہے تو دشمن کے ظلم کا گواہ ہے تو پاک و مطہر ہستیوں کے جذبے کا نشانہ ہے تو ستر آیتوں، ستر سورتوں اور زندگی کے ستر رازوں کا امین ہے تو زمانے کی سرخ فریاد ہے، عصیان و انقلاب کا موج ہے تو وہ موج ہے جو گرتے پڑتے پہچنچی ہے زمانوں کے ساحل پر۔۔۔ اے محرم!تو فجر ہے، تو نصر ہے تو لوگوں کے لئے لیلۃالقدر ہے، تو بجلی تو برق ہے تو طوفان ہے طفّ [کرب و بلا] کا ، کوہستانی تھنڈر کی گھن گرج! اَلا ۔۔۔ اے محرم! تو عشق و خون اور حماسہ، تو جہاد و شہادت کی دانشگاہ، تو ہے "ثار" و یاروں کے "ایثار" کا مظہر ... اَلا اے محرم!کاروان شہداء کی ہجرت کے ہنگام و ہنگامے میں تو وہ روح بخش اور مہمان نواز راہ باں ہے جو احرار کے راہ نما کے قدموں پر ارغوانی پھول نثار کرتا ہےالا ... اے محرم! ظلم و ستم کے خلاف مسلسل جہد و قیام کرکے تاریخ کے سرخ صفحے پر حَسین ترین تصویر کھینچنے والے سورماؤں اور احرار کی نظر میں تو پرانا آشنا اور دشمن کے خلاف برسرپیکار ہے کہ تو انہیں ہر وقت یاد کرتا ہےالا ... اے محرم! تو وہ کیمیا ہے جو دگرگوں کرتا ہے اور تبدیل کرتا ہے کہ تو موتِ حیات آفرین کو "شہادت" کے نام سے عشق کی ایسی اکسیر میں تبدیل کردیا ہے جو تیری فجر آفرین انگلیوں میں مضمر ہے اور تو اس اکسیر میں بدلنے والی موت کو عسل مصفّا اور شہید شیریں کی طرح اس کے شیدائیوں کو چکھا دیتا ہے۔

.....

/169