ابنا: امریکی صدر بارک اوبامہ کے ساتھ نواز شریف کی ملاقات کا جائزہ لیتے ہوئے سینئر انتظامی اہلکاروں نے تسلیم کیا کہ پاکستان اور امریکا فاٹا میں ڈرون حملوں پر تبادلۂ خیال کرچکے ہیں اور اس کو جاری رکھیں گے، لیکن یہ بڑے سیکیورٹی معاملے کا صرف ایک حصہ ہے۔ ان میں سے ایک اہلکار نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ کشمیر کے معاملے پر ہماری پالیسی میں ذرا بھی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے امریکا کے روایتی مؤقف کو دہراتے ہوئے مذکورہ اہلکار نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو چاہئیے تھا کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر اپنے مذاکرات میں کردار، امن اور گنجائش کاتعین کرتے۔
لندن میں اتوار کے روز اپنے عارضی قیام کے دوران نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا کشمیر کے تنازعے کے حل کے لیے مداخلت کرے۔ امریکی اہلکار نے کہا کہ اوبامہ اور نواز شریف کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ توانائی اور دہشت گردی کے معاملات پر توجہ مرکوز رہے گی، پاکستان کے انڈیا اور افغانستان کےساتھ تعلقات بھی اس بات چیت میں زیرغور آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک مضبوط اور خودمختار افغانستان کے لیے اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔ اس نکتے پر بھی بحث ہوگی کہ پاکستان 2014ء کے بعد افغانستان کو کیسے دیکھتا ہے۔ امریکا افغانستان میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر پاکستان کا نکتہ نظر جاننا چاہتا ہے اور کیا وہ 2014ء کے بعد نیٹو کی افغانستان میں موجودگی کو پسند کرے گا۔
پاکستان کے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بھی کئی موڑ پر سامنے آئے گا۔ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کو آگے بڑھانے میں دونوں اطراف سے اُٹھائے گئے اقدامات پر ہماری جانب سے حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے معاملے کو حل کرنے کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کی امریکی انتظامیہ کی طرف سے حمایت کی گئی تھی۔
.......
/169