ابنا: مرضیہ افخم نے آج ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جنیوا میں فریقین نے مذاکرات کے بعد اپنے نظریات بیان کئے جن میں مشترکہ نکات بھی شامل تھے اور اب مذاکرات کے لئے نیا ایجنڈا تیار کیا جارہا ہے۔مرضیہ افخم نے کہا کہ مذاکرات کا نقشۂ راہ مکمل طرح سے تیار کیا جانا چاہیے اور مشترکہ ہدف کے پیش نظر اس کے پہلے اور آخری اقدام کا بھی تعین ہونا چاہیے اور فریقین کو ایک معین ایجنڈے کے مطابق قدم اٹھانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دشمن موجود ہیں جو ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان مفاہمت نہیں چاہتے اور الزامات و پروپگينڈے سے مذاکرات میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ترجمان وزارت خارجہ نے جنیوا ٹو کانفرنس میں ایران کی مشروط شرکت کے بارے میں رپورٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمیشہ اعلان کیا ہے کہ وہ شام کے مسئلے کا مفاہمت آمیز حل چاہتا ہے اور جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لئے وہ کسی طرح کی شرط قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران، شام کے بحران کو حل کرنے میں کلیدی کردار کا حامل ہے اور وہ چاہتا ہے کہ شام کی سیاسی پارٹیوں کی شراکت اور ملت شام کے فیصلے کے مطابق یہ مسئلہ حل ہوجائے۔مرضیہ افخم نے مقبوضہ فلسطین میں صہیونیوں کے ہاتھوں مقدس اسلامی مقامات کی مسماری کی مذمت کی۔ انہوں نے ایران اور برطانیہ کے تعلقات کی بحالی کے بارے میں کہا کہ ایران اور برطانیہ نے معمول کے تعلقات کی بحالی کے لئے غیر مقیم ناظم الامور معین کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ آٹھ دنوں میں دونوں ممالک اپنا اپنا ناظم الامور معین کردیں گے۔ انہوں نے امریکہ میں ایران کے اثاثے بحال کئےجانے کے بارے میں کہا یہ باتیں ہمیں میڈیا سے ملی ہیں اور کسی سرکاری ذریعے نے اس سلسلے میں ہم سے رابطہ نہیں کیا ہے۔
.......
/169