20 اکتوبر 2013 - 20:30
ترکي ميں مظاہرين اور پوليس کا تصادم

ترک پوليس نے سڑک کي تعمير کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کو منتشر کرنے کے لئے آنسوں گيس کا استعمال کيا ہے -

ابنا: ترک پوليس نے سڑک کي تعمير کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کو منتشر کرنے کے لئے آنسوں گيس کا استعمال کيا ہے -کہا جارہا ہے کہ  انقرہ کي مشرق وسطي ٹيکنيکل يونيورسٹي کے طلبہ و طالبات نے اس وقت زبردست احتجاج شروع کيا جب سڑک بنانے والي  کمپني کے مزدوروں نے يونيورسٹي کے احاطے ميں لگے درخت کاٹنا شروع کئے-طلبہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ سڑک کا کچھ حصہ يونيورسٹي کيمپس اور ہاسٹل کے قريب سے گزرے گا جس کي وجہ سے  بہت  سارے درختوں کو کاٹنا پڑے گا- مذکورہ يورنيورسٹي کے طلبہ اس سے  پہلے بھي کئي بار اس منصوبے کے خلاف مظاہرے کرچکے ہيں-خبروں کے مطابق پوليس نے احتجاجي طلبہ و طالبات کو منتشر کرنے کے لئے آنسوگيس کے گولے پھينکے اور پاني کي توپوں کا استعمال کيا-يہ مظاہرہ ايسے وقت ميں کيا گيا ہے جب ترکي ميں وزيراعظم رجب طيب اردوغان کي داخلہ اور خارجہ پاليسيوں کے خلاف ملک گير احتجاج کا سلسلہ بدستور جاري ہے-ترکي ميں حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب اکتيس مئي کو استنبول کے تقسيم اسکوائر کے قريب واقع قديم پارک کي جگہ شاپنگ مال کي تعمير کے خلاف مظاہرے کئے گئے تھے-

اس کے  بعد احتجاج کا سلسلہ پورے ملک ميں پھيل گيا تھا اور لوگ وزيراعظم رجب طيب اردوغان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے-

.......

/169