اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اردن کے دارالحکومت امان میں مقیم شام کے سفیر "بہجت سلیمان" نے المیادی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ القاعدہ اور دولۃالاسلامیۃفي العراق والشام (داعش) سمیت القاعدہ کی ذیلی شاخوں کے اصل کمانڈر شہزادہ بندر بن سلطان آل سعود ہیں جبکہ ایمن الظواہری صرف تشہیراتی حیثیت رکھتا ہے جبکہ اسامہ بن لادن القاعدہ کی معنوی علامت ہے۔ پوچھا گیا کہ کیا ایسی معلومات بھی ہیں جن سے ظاہر ہو کہ بندر بن سلطان شام کے اندر دراندازی میں کامیاب ہوسکے ہیں؟ تو انھوں نے کہا: جب بندر بن سلطان اردن کی سرحدوں پر اپنی فورسز تعینات کرتے ہیں اور ہر وقت ایک ہوٹل سے دوسرے ہوٹل کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے ساتھ ملاقاتیں کریں۔ تو کیا یہ شام میں آل سعود کی دراندازی کا ثبوت نہیں ہے؟ کس نے آل سعود کو شامی عوام کا ولی وارث قرار دیا ہے؟ یہ کون ہوسکتے ہیں کہ شام کے عوام کو آزادی اور جمہوریت سکھا سکیں؟ بہجت سلیمان نے شام کے سلسلے میں اردن کی حکومت کے موقف کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: اردن نے شام میں دراندازی کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لئے کئی بار کوشش کی ہے اور انہیں شام میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے اچھے اقدامات کرتا آیا ہے۔ قبل ازیں اگست کو شام کے غوطہ الشرقیہ پر کیمیاوی حملہ بھی بندر بن سلطان نے کرایا تھا جس کے بعد امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ حملہ اس وقت ہوا تھا جب امریکہ نے شام کے خلاف کسی بھی عسکری کاروائی کو بعید از امکان قرار دیا تھا جبکہ آل سعود اور اردوگان کی طرف سے امریکہ پر اس سلسلے میں دباؤ ڈالا جارہا تھا۔ کیمیاوی حملے میں تقریبا 1400 شامی فوجی، عوام، بڑے، بوڑھے اور بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ ماہرین و مبصرین کی رائے کے مطابق اس وحشیانہ حملے کی منصوبہ بندی کے ملزم نمبر ایک بندر بن سلطان ہیں۔ جاری ہےشام کے سلسلے میں امریکی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے ایک امریکی اخبار نویس کیوین پارٹ کا کہنا تھا کہ شام کے برے حالات کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائدہ ہوتی ہے اور انھوں نے بندر کو "دہشت گردوں کا شہزادہ (Prince of Terrorist) کا لقب دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بندر بن سلطان کا ریکارڈ القاعدہ کی حمایت اور سرپرستی پر دلالت کرنے والے اقدامات نے بھرپور ہے۔ وہ القاعدہ کے آپریشن کمانڈر ہیں اور 1980 کے عشرے میں عرب اور افغان جنگجؤوں کے بارے میں معلومات کے حصول کے لئے امریکی سی آئی کے سورس کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی کہا ہے کہ بندر بن سلطان شام میں دہشت گرد تنظیموں کے کمانڈر ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے تجزیہ نگار آدم انٹوس (Adam Entous) نے امریکی ٹیلی ویژن چینل "Democracy Now!" کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا: بندر بن سلطان 11 ستمبر کے واقعات، افغانستان اور عراق پر حملوں میں کردار ادا کرتے رہے ہیں اور شام میں دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔ بندر بن سلطان نے سعودی عرب کے عوام کی دولت اور اپنے خاص روابط سے استفادہ کرتے ہوئے شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کا ڈرامہ رچانے کا منصوبہ بنایا۔ بندر بن سلطان نے مغربی خفیہ ایجنسیوں کو معلومات فراہم کردیں کہ حکومت شام نے دمشق کے نواح میں سیرین کیمیکل گیس استعمال کی ہے۔ اور امریکی، فرانسیسی اور برطانوی خفیہ ادارے ـ جو شام پر چڑھائی کے لئے بہانے کی تلاش میں تھے ـ اسی بہانے سے استفادہ کرکے شام پر حملہ کرنے کی تیاریاں کرنے لگیں۔ جس وقت دمشق کے نواح میں غوطہ شرقیہ کے علاقے میں کیمیاوی حملہ کیا گیا تو ایسوسی ایٹد پریس کے نامہ نگار نے غوطہ کے عوام کے حوالے سے لکھا کہ یہاں کے بیشتر باشندوں کا کہنا ہے کہ باغیوں نے بندر بن سلطان کی مدد سے کیمیاوی ہتھیار حاصل کئے ہیں اور وہ اس حملے کے ذمہ دار ہیں۔ تکفیری دہشت گردوں نے بھی اگست کے مہینے میں ہی اعتراف کیا تھا کہ غوطہ شرقیہ میں استعمال ہونے والے ہتھیار سعودی عرب سے موصول ہوئے تھے۔ دہشت گردوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے نامہ نگار "ڈیل گاولاک" (Dale Gavlak) کو بتایا تھا کہ غوطہ میں کیمیاوی حملے کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ گاولاک نے منٹ نیوز پریس کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں لکھا تھا کہ غوطہ کے اسپتالوں کے ڈاکٹروں، مقامی باشندوں، دہشت گردوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ بات چیت کرنے پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان میں سے بہت سوں کو یقین ہے کہ دہشت گردوں نے کیمیاوی ہتھیار بندر بن سلطان سے وصول کئے تھے اور وہی اس حملے کے ذمہ دار ہیں۔ پال جوزف واٹسن نے بھی تقریبا اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے ملاحظہ ہو:Rebels Admit Responsibility for Chemical Weapons Attack دہشت گردوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ حادثہ بالکل اتفاقیہ طور پر سعودی عرب سے بھجوائی جانے والی کیمیاوی ہتھیاروں کے تحفظ میں سستی کی وجہ سے رونما ہوا ہے! ایک دہشت گرد "عبدالمنعم" کے باپ نے گاولاک سے کہا کہ اس کو اپنے بیٹے نے بتایا تھا کہ یہ ہتھیار سعودی عرب سے شام پہنچائے گئے ہیں اور اس کے کے بیٹے اور 12 دیگر دہشت گردوں کو حکم دیا گیا تھا کہ ان ہتھیاروں کو ایک سرنگ میں رکھ دیں لیکن وہ سب وہیں ہلاک ہوگئے تھے۔ ابو عبدالمنعم کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیار ابو عائشہ نامی شخص نے دہشت گردوں کے حوالے کئے تھے۔ گاولاک لکھتے ہیں: ان اعترافات کے علاوہ ڈیلی ٹیلگراف کی ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بندر نے روسی صدر پیوٹن سے کہا تھا کہ اگر وہ شام کے بارے میں اپنی پالیسی نہ بدلیں تو آنے والے موسم سرما کے اولمپکس گیمز کو دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور روس کو وعدہ دیا تھا کہ بشار حکومت کے خاتمے کی صورت میں بھی طرطوس بندرگاہ پر روس کا بحری اڈا قائم رہے گا۔ بہرحال نتیجہ یہی ہے کہ مشرق وسطی میں جہاں بھی گولی چلتی ہے، جہاں بھی بم پھٹتے ہیں اور جہاں بھی تشدد اور دہشت گردی کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں وہاں بندر بن سلطان کا ہاتھ صاف دکھائی دے رہا ہے جس کا فائدہ سعودی عرب کو نہیں بلکہ اسرائیل کو مل رہا ہے اور بندر کا مقصد بھی یہی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
بندر بن سلطان کلیکشن:
ـ بندر بن سلطان کے دلچسپی کے امور کیا ہیں؟
ـ متنازعہ سعودی شیڈو پرنس لاپتہ / تصاویر دیکھنا نہ بھولیں
شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا منصوبہ سعودی عرب کا تھابندر بن سلطان کون ہیں، ان کی نئی ڈیوٹی کیا ہے؟سعودی عرب: بندر بن سلطان کی معزولی سمیت بڑی تبدیلیوں کا امکانبندر بن سلطان شام اور عراق کے بحران کے اصلی ذمہ دار ہیںبندربن سلطان کو شدید تنقیدوں کا سامنابندر بن سلطان بن عبدالعزیز کو نیا صدمہ، شہزادوں نے شکایت کردیشام پر امریکی حملہ نہ ہونے کا سب سے بڑا ہارنے والا ابوالفتنہ بندر بن سلطان آل سعودبندر بن سلطان کی ہلاکت کا دعویخلیج فارس تعاون کونسل کی حزب اللہ دشمنی، کویت کا اختلاف و اعترافسعودی عرب شام پر امریکی حملے کا حامی نمبر ایکاسرائیل اور سعودی حکومت کے مصری جنرل السیسی سے مسلسل رابطےبحرین میں آل خلیفہ کی ڈوبتی کشتی اور حکومت پاکستان کا کردار
سعودی انٹیلیجنس، بیروت اور طرابلس میں بدامنی پھیلانے پر مامورروسی فوج کو شام پر حملے کی صورت میں سعودی عرب پر چڑھائی کرنے کا حکم دے دیا گیاسعودی عرب کا برطانیہ کے سامنے اعترافشام کے خلاف امریکی دھمکیوں پر مختلف ردعملبندر کی اچھل کود، کہیں جنگ تو شروع نہیں ہونے والی؟سعودی حکومت دہشت گردی کی براہ راست نگرانی کرے گی/ آل سعود ـ امریکہ اختلافاتامریکہ جانتا ہے کہ بشار الاسد نے کیمیاوی ہتھیار استعمال نہیں کئےشام پر امریکی حملے کا ۷۰ میلین ڈالر کا بجٹ سعودی عرب نے ادا کیاسعودی بندر بن سلطان کاشام میں النصرہ کا سات