ابنا: عباس عراقچی نے کہا کہ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات میں دوطرفہ مذاکرات ایک رائج امر ہے اور ماضی میں بھی رائج رہا ہے۔ انہوں نے اس بارے میں کہ کیا امریکی نمائندے نے ایران کے نمائندے سے ملاقات کی درخواست کی ہے؟ کہا کہ اگر امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ دوطرفہ ملاقات مفید ہوسکتی ہے تو مذاکرات کرنے میں کوئي مضائقہ نہیں ہے۔
نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ بعض مسائل جیسے افغانستان، عراق اور ایٹمی مسئلے پر مذاکرات ہوئے ہیں اور ان کا کبھی انکار نہیں کیا گيا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں کبھی بھی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں اور اب بھی ایسے مذاکرات، ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ کل منگل سے سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔
ایران کی ٹیم کل وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی سربراہی میں جنیوا پہنچ رہی ہے۔ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف مذاکرات کے آغاز میں ایران کے ایٹمی معاملے کوحل کرنے کےلئے تجویز پیش کریں گے اور اس کے بعد سید عباس عراقچی کی سربراہی میں مذاکرات جاری رہیں گے۔
.......
/169