11 اکتوبر 2013 - 20:30
بحرین: خاندانی آمریت کے خاتمے کا مطالبہ

العالم ٹيلي ويژن کے مطابق دارالحکومت مناما، سنابس، سلما آباد اور ديگر شہروں ميں لوگ سڑکوں پر آئے اور انہوں نے ملک پر مسلط خانداني آمريت کے خاتمے کا مطالبہ کيا۔

ابنا: مظاہرين ملک کي جيلوں ميں بند سياسي قيديوں کے ساتھ يکجہتي کے حق ميں نعرے لگا رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے جمہوري اور شہري حقوق کي بالادستي کے لئے پرامن جدوجہد جاري رکھيں گے۔ مظاہرين نے ملک کے بادشاہ حمد بن عسي آل خليفہ کے خلاف بھي نعرے لگائے اور ان سے فوري طور پر اقتدار سے عليحدہ ہونے کا مطالبہ کيا۔ زنج نامي علاقے ميں ہونے والے عوامي اجتماع سے سرکردہ خاتون سياسي کارکن احلام الخزاعي نے شاہي حکومت کي جيلوں ميں بند خواتين کے ساتھ بد سلوکي کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ متعدد قيدي خواتين کو بلواسطہ اور براہ راست تشدد اور عصمت دري کي دھمکياں دي گئي ہيں۔ ادھر شاہي حکومت کي مخالف سب سے بڑي سياسي جماعت جميعت وفاق ملي نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ سياسي قيديوں کو جيلوں ميں تشدد کا نشانہ بنايا جارہا ہے جس کے خلاف بہت سے قيديوں نے بھوک ہڑتال کردي ہے۔ جميعت وفاق ملي کے بيان ميں واضح کيا گيا ہے کہ بھوک ہڑتالي قيديوں نے اعلان کيا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حصول تک بھوک ہڑتال کا سلسلہ جاري رکھيں گے۔ انساني حقوق مرکز، بحرين کے سربراہ محمد التاجر نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ سيکڑوں لوگوں کو محض حکومت کي مخالفت اور اظہار رائے کے جرم ميں گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے اور روز برزو ايسے قيديوں کي تعداد ميں اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے يہ بات زور ديکر کہي کہ ملک کے تمام وزارت خانے اور محکمے ايک خاندان کے قبضے ميں ہيں لہذا وزارت انساني حقوق کا قيام محض ايک دکھاوا ہے جس کا مقصد عالمي رائے عامہ کو دھوکہ دينا ہے۔ بحرين ميں انساني حقوق کي بڑے پيمانے پر خلاف ورزيوں کے درميان اس ملک کي وزارت انصاف نے جسماني صورتحال کي ابتري کي وجہ سے اسپتال ميں زير علاج ايک قيدي کے لئے بھي عدات ميں حاضري کا سمن جاري کيا ہے۔ بحريني وکيل زينب عبدالعزيز کا کہنا ہے کہ پراسيکيوٹر آفس نے ايسے وقت ميں يوسف النشمي نامي شہري کو عدالت ميں حاضري کا حکم ديا ہے کہ جب وہ اسپتال ميں انتہائي نگہداشت کے شعبے ميں زير علاج ہے اور ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ اسے برين ہميج ہوگيا۔ بحرين کے پرسيکيوٹر نے ان کےخلاف مقدمے کي سماعت کو ضروري قرار ديا ہے جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آئي سي يو بغير اس کے زندہ رہنے کا امکان نہيں۔ انساني حقوق کي عالمي تنظيموں نے بھي حکومت بحرين کے ہاتھوں انساني حقوق کي سنگين خلاف وزيوں پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے ايسے تمام قيديوں کي رہائي کا مطالبہ کيا ہے جنہيں بغير مقدمہ چلائے بند رکھا جارہا ہے۔ بحرين کي شاہي حکومت سعودي فوجيوں کے تعاون سے ملک ميں جاري عوامي تحريک کو کچلنے کي کوشش کر رہي ہے جس کے نتيجے ميں فروري دوہزار گيارہ سے اب تک درجنوں افراد شہيد اور ہزاروں کي تعداد ميں زخمي ہوئے ہيں۔ بڑي تعداد ميں لوگوں کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے اور ان ميں بہت سے لوگوں کے بارے ميں کوئي اطلاع نہيں ہے کہ انہيں کہاں رکھا جارہا ہے۔

.......

/169